قضا نمازوں کا بیان
اسلام نے جس طرح ہر مسلمان مرد و عورت ، عاقل وبالغ پر پانچ وقت کی نماز فرض کی ہے اور اس سے متعلق قرآن و حدیث میں بڑی تاکید کی گئی ہے اس لیے یہ سہو لت بھی کر دی گئی ہے کہ اگر اتفاقیہ طور پر کسی مجبوری یا شدتِ بیماری کی وجہ سے کوئی نماز قضا ہو جائے تو اس کو چاہیے کہ جلدی کوشش کر کے ادا کرے۔

پیارے آقائے دو جہاں حضرت محمد مصطفی ﷺ نے فرمایا کہ

اگر کوئی کسی نماز کے وقت اتفاقاََ سوتا رہ جائے یا کسی وجہ سے نماز پڑھنا یاد نہ رہے تو جب یاد آئے فوراََ پڑھ لے۔

قضاءنمازوں کے بارے میں اس طرح سے بیان کیا گیا ہے


فرض نمازوں اور نمازِ وتر کی قضاءہے سنتوں کی نہیں۔


کسی کی ایک وقت کی نماز قضاءہو اور اس سے پہلے کی اس پر کوئی نماز قضا نہیں یا اس سے پہلے جو اس کے ذمہ قضاءتھیں وہ سب ادا کر دیں اور اب صرف ایک نماز باقی ہے تو پہلے قضا ءنماز پڑھے۔


.قضاءنمازیں سوائے مکروہ اوقات کے ہر وقت پڑھی جا سکتیں ہیں۔ مکروہ اوقات تین ہیں

طلوعِ آفتاب کا وقت
جب سورج سر پر ہو
غروبِ آفتاب کا وقت

وقتی نماز کا وقت بہت تنگ ہو یعنی اگر قضاءپڑھیں تو ادا نماز کا وقت جاتا رہے گا تو ایسی صورت میں پہلے ادا نماز پڑھ کر پھر قضاءنماز پڑھیں۔


کسی کو جنون ہو جائے یا بے ہوش ہو جائیں اور اسی حالت میں ایک دن اور ایک رات گزر جائے تو ان نمازوں کی قضاءنہیں۔


ایامِ حیض و نفاس کی نمازوں کی بھی قضا نہیں ہے۔


قضا نمازیں اگر ایک یا دو دن کی قضا ہوئی ہیں تو اس کی نیت کرتے ہوئے جس دن کی جو نماز قضا ہوئی اس دن اور وقت کا نام لے کر نیت کرے۔ اور اگر کسی کے ذمہ مہینوں یا سالوں کی نمازیں قضا ہیں تو وہ قضا نماز کی نیت کرتے ہوئے بھی اگر فجر کی پڑھے تو وہ میری تمام قضا نمازوں میں سب سے پہلی فجر کی قضا دو رکعت نماز کہہ کر نیت کرے۔


فجر کی قضا نماز کو ادا کرنے کا وقت کسی دِن گیارہ بجے سے پہلے بھی سورج کے سیدھا سر پر آنے سے ایک گھنٹہ پہلے ادا کر تے ہوئے دو سنت اور دو فرض ادا کرے مگر اس کے بعد جب بھی پڑھے تو دو فرض پڑھے گا/گی۔ قضا نماز کے لیے مکروہ اوقات کے علاوہ جس وقت چاہے نماز ادا کر سکتے ہیں۔ کیونکہ سجدے والی عبادت صبح سورج کے طلوع ہوتے وقت مکروہ ہے جب سورج اچھی طرح نکل آئے تو نوافل ادا کر سکتے ہیں۔دوپہر کو جب سورج سیدھا سر پر ہوتا ہے یعنی بارہ بجے دِن سجدے والی عبادت یعنی نفل یا قضا نماز کے لیے مکروہ وقت ہے۔ عصر کے وقت جب سورج بالکل غروب ہونے لگے اس وقت نوافل یا قضا نماز ادا کرنا منع ہے۔


کسی نے رات کو عشاءکی نماز کے ساتھ وتر نہیں پڑھے تو فجر کی اذان سے پہلے وتر پڑھ لے اور پھر فجر کی نماز اذان کے بعد ادا کر لے۔


کسی پر ایک یا دو ماہ یا سال دو سال کی نمازیں ہیں یا اس سے زیادہ قضا نمازیں ہوں تو اسے چاہیے کہ جلد سے جلد ادا کرے۔