روزے کا ٹوٹ جانا اور قضا اور کفارے کا واجب ہونا
جب عاقل و بالغ شخص رمضان شریف کا روزہ رکھے اور جسم کے قدرتی راستوں سے کوئی چیز جسم میں داخل کرے اگرچہ وہ غذا ہو، دوا ہو یا کچھ اور ہو چاہے وہ تِل کے برابر ہی کیوں نہ ہو روزہ ٹوٹ جائے گا لیکن اگر کان ناک کے ذریعے کوئی چیز اندر جائے تو روزہ نہیں ٹوٹے گا۔ رمضان کے مہینے میں روزہ توڑنے کا کفارہ لازم ہوتا ہے۔ رمضان کے علاوہ باقی دنوں میں روزہ توڑنے کا کفارہ نہ ہوگا خواہ وہ روزہ منت کا ہو، نفل ہو یا رمضان کے روزے ہی کی قضا ہو۔حقہ ،سگریٹ پینے سے کفارہ اور قضا دونوں لازم ہوتے ہیں۔ پیٹ میں زخم ہو یا معدہ اور آنت کا زخم کھُلا ہواور اس میں دوا ڈال دی جائے تو روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔ اور قضا اور کفارہ دونوں لازم آتے ہیں۔ لیکن انتہائی مجبوری کے عالم میں کیا جائے تو قضا ہوگی کفارہ نہیں۔ جان بوجھ کر کچھ کھا پی لے، جماع کر ے یا کرائے جبکہ اس نے رمضان کے روزے کی نیت کر رکھی تھی تو بھی روزہ ٹوٹ گیا اور کفارہ لازم ہو گیا ۔