مستحقینِ زکوٰة

زکوٰة اور عشر کا مال کن لوگوں کو دینا چاہیے:۔


زکوٰة انہیں دینی چاہیے جن کے پاس کچھ مال ہے مگر نصاب سے کم ہے۔


مسکین یعنی وہ شخص جس کے پاس کھانے کے لیے غلہ اور پہننے کے لیے کپڑے بھی نہ ہوں۔


قرض دار یعنی وہ شخص جس کے ذمے قرض ہو اور اس کے قرض سے فضل کوئی مال بقدر نصاب نہ ہو۔


مسافر جس کے پاس سفر کی حالت میں مال ہو تو اسے بقدر ضرورت مال دینا زکوٰة کا جائز ہے۔


وہ شخص جسے اسلامی ریاست کی طرف سے زکوٰة اور عشر وصول کرنے کے لیے مقرر کیا گیا ہو۔


غلام تا کہ و مال دے کر آزاد ہو جائے۔


غریب مجاہد جو جہاد کا سامان کر سکے۔


مالدار کے مرنے کے بعد تاکہ اس کے بیوی بچے اور بالغ بچے کو تب تک جب اب کے باپ کا مال ان کے حوالے نہ ہو جائے انہیں تب تک زکوٰة دی جاسکتی ہے۔ تندرست اور طاقتور آدمی اگر صاحبِ نصاب نہیں تو اسے زکوٰة دی جاسکتی ہے۔ پر اس آدمی کو بھیک مانگنا یا سوال کرنا جائز نہیں۔


بہو یا داماد اور سوتیلے ماں باپ یا بیوی کی اولاد، جودوسرے شوہر سے ہو یا شوہر کی اولاد جو دوسری بیوی سے ہو اور دوسرے رشتہ داروں کو زکوٰة دی جاسکتی ہے۔ زکوٰة اور صدقات میں افضل یہ ہے کہ پہلے اپنے ماں اور باپ کے خونی رشتوں کو پھر دوسرے رشتہ داروں کو زکوٰة دی جاسکتی ہے۔ پھر پڑوسیوں کو پھر اپنے ساتھ کام کرنے والوں پھر اپنے گاﺅں یا شہر کے رہنے والوں کو۔ فقیر زکوٰة کے مال کا مالک ہو جانے کے بعد خود اپنی طرف سے اگر مسجد یا مدرسے عمارت میں لگائے یا میت کے کفن دفن میں خرچ کر دے تو جائز ہے۔



قرآنِ پاک میں آٹھ صارف بیان کیے گئے ہیں۔
اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَاۗءِ وَالْمَسٰكِيْنِ وَالْعٰمِلِيْنَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوْبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغٰرِمِيْنَ وَفِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَابْنِ السَّبِيْلِ ۭفَرِيْضَةً مِّنَ اللّٰهِ ۭوَاللّٰهُ عَلِيْمٌ حَكِيْمٌ
زکوٰة، غریبوں، مساکین زکوٰة کے محکمے میں کام کرنے والے اور ان لوگوں کے لیے جن کے دلوں کو اسلام کی طرف جوڑنا ہے۔ اور غلام چھڑانے میں جو تاوان بھرے خدا کی راہ میں، مسافروں کے سلسلے میں یہ خدا کی طرف سے ہے۔ اور وہ جاننے والا اور حکمت والا ہے۔

(سورة التوبہ: 60 )
اس آیت کی روشنی میں آٹھ مصارف یہ ہیں:۔
فقرا

عاملین
(زکوٰة کے محکمے میں کام کرنے والے)


رقاب

فی سبیل اللہ


مسکین


تالیفِ قلب


قرض دار


مسافر


: زکوٰة کا مال کن لوگوں پر جائز نہیں

مال دار صاحبِ نصاب جس پر خود زکوٰة فرض ہے۔ بنی ہاشم، حضرت جعفرؓ، حضرت عقیلؓ، حضرت عباسؓ ، حضرت حارث بن طالبؓ کی آج کی اولاد کو زکوٰة
دینا جائز نہیں۔

اپنی نسل کو یعنی ماں باپ، دادا دادی، نانا نانی، بیٹا بیٹی، پوتا پوتی، نواسہ نواسی وغیرہ کو زکوٰة دینا جائز نہیں شوہر اپنی بیوی کو اور بیوی اپنے شوہر کو زکوٰة نہیں دے سکتے۔ اس طرح صدقہ فطر یا کفاہ بھی نہیں دیا جا سکتا۔ کسی کافر یا بدھ مذھب کو زکوٰة دینا جائز نہیں۔


ضروری پوائنٹ

زکوٰة ادا کرنے کے لیے ضروری ہے کہ جس کو دیں اس کو مالک بنا دیں۔ غریبوں کا کھانے پکانے اور کھلانے سے زکوٰة نہیں ہوگی۔ لیکن اگر انہیں مالک بنا دیں کہ چاہے کھائیں یا کسی کو دیں تو زکوٰة ادا ہوگی کیونکہ جب زکوٰة دیں تو اگلے کو اس کا مالک بنا دیں۔ جن لوگوں کو زکوٰة دینا جائز نہیں انہیں اور بھی کوئی صدقہ فطر یا کفارہ نہ دیں۔ دوسرے شہر زکوٰة بھیجنا مکروہ ہے۔ لیکن اگر وہا ںحاجت مندموجود ہوں تو بھیج دیں۔ ایسے ہی اگر دوسرے شہر میں اپنے شہر سے زیادہ حاجت مند موجود ہوں یا سٹوڈنٹ یا عبادت گزاروں کے لیے بھیجیں تو جائز ہے۔ جس کے پاس کھانے کو ہے اور وہ تندرست ہے کہ کما سکتا ہے اسے کھانے کے لیے سوال کرنا حلال نہیں۔ اگر کوئی بن مانگے خود دے تو جائز ہے۔ اور اس کے پاس کھانا ہے پر کپڑے نہیں تو کپڑے کے لیے سوال کر سکتا ہے۔ یونہی اگر علمِ دین کی طلب میں یا جہاد میں لگا ہے تو بے شک کہ تندرست اور طاقت والا اور کما بھی سکتا ہو تو پھر بھی اسے سوال کی اجازت ہے۔ مستحب یہ ہے کہ ایک شخص کو اس کے گھر کے افراد کے حساب سے اتنا دیں کہ اس دن اسے سوال کی حاجت نہ پڑے۔ دین کا علم حاصل کرنے والے طالبعلموں اور گوشہ نشین تہذیب علماءکو زکوٰة کا مال دینا افضل ہے کہ اس کے زکوٰة کی ادائیگی کے ساتھ دین کے کام میں مدد کا ثواب بھی ملے گا۔

:صدقہ فطر اور صدقہ
صدقہ فطر کی مقدار یہ ہے کہ اگر گیہوں یا گیہوں کا آٹا دیں تو آدھا سیر اور جو یا جو کا آٹا یا کھجور ایک ضاغ وزن کے مطابق دو کلو ہوتا ہے۔ اگر پیسے دیں تو انہیں اوزان کے مطابق دیں۔ ہر مالکِ نصاب پر اپنی طرف سے اور اپنی نابالغ اولاد کی طرف سے ایک صدقہ فطر دینا واجب ہے۔ بیوی یا بالغ اولاد کی طرف سے ایک صدقہ فطر دینا واجب ہے۔ بیوی یا بالغ اولاد یا دوسرے رشتہ داروں کا دینا اس پر واجب نہیں۔ اس لیے روزہ دار ہونا شرط نہیں۔ اگر مجبوراََ یا ویسے ہی روزے نہ بھی رکھے خیر ہے لیکن صدقہ فطر واجب ہے۔ باپ نہ ہو تو دادا اپنے پوتے پوتیوں کا صدقہ فطر ادا کرے۔ زکوٰة عشر اور صدقہ یہ تینوں تو واجب ہیں جو ان تینوں کو ادا نہ کرے تو گناہ ہو گا۔ مگر اس کے علاوہ صدقہ دینا اور اللہ کی راہ میں خیرات دینے کا بھی بہت ثواب ہے۔ حدیثِ مبارکہ ہے کہ: صدقہ گناہوں کو اس طرح مٹاتا ہے جس طرح پانی آگ کو بجھاتی ہے۔ صدقہ اللہ کے غضب کو مٹا دیتا ہے۔ اور بری موت کو دفع کرتاہے۔ اپنے کسی مسلمان بھائی کے سامنے مسکرا دینا بھی صدقہ ہے۔ اور کسی اندھے کی مدد کرنا بھی صدقہ ہے اور راستے پر سے کانٹے، پتھر ہٹا دینا بھی صدقہ ہے۔