ایامِ حج اور ارکانِ حج

آٹھ ذی الحج سے 12 ذی الحجہ کے پانچ دن ایام حج کہلاتے ہیں۔ یہی دن سفر حج کا حاصل ہیں کیونکہ انہی ایام میں حج کے جملہ مناسک ادا کرنا ہوتے ہیں۔



آٹھ ذی الحجہ: بہتر یہ ہے کہ سات ذی الحجہ کی رات کو ہی منٰی کے لیے روانگی کی تیاری کر لی جائے۔ عمرہ کی تیاری اور نیت کی طرح ہو سکے تو پہلے غسل کر لے ورنہ وضو کرکے
احرام کی نیت کریں۔ احرام باندھ کر دو رکعت نفل پڑھیں۔ اس کے بعد اسی جائے نماز پر حج کی نیت کریں۔ نیتِ حج کے الفاظ بالکل نیتِ عمرہ کی طرح ہیں۔ یہاں صرف العمرہ کی جگہ لفظ الحج کی تبدیلی کر لیں۔


منٰی کو روانگی: آٹھ ذی الحجہ کو مکہ مکرمہ میں نماز فجر ادا کر کے سورج نکلتے ہی منٰی کی جانب روانہ ہو جائیں۔ سفر میں تلبیہ کثرت سے پڑھیں۔ منٰی کی جانب روانہ ہو جائیں۔ سفر میں تلبیہ کثرت سے پڑھیں۔ منٰی میں پہنچ کر ظہر، عصر، مغرب، اور عشاءکی نمازیں پڑھیں، رات یہیں قیام کریں۔ 9ذی الحجہ کی نمازِ فجر بھی منٰی میں ادا کریں۔


نو ذی الحجہ کو عرفات روانگی: نمازِ فجر منٰی میں ادا کرنے کے بعد سورج نکلنے پر عرفات کو روانہ ہوجائیں اور زوال سے قبل خور دو نوش سے فراغت حاصل کرکے نمازِ ظہر اور عصر مسجد میں جاکر ادا کریں ورنہ اپنی اپنی جگہ ہی دونوں نمازیں با جماعت پڑھنی بھی جائز ہیں۔ یہ دونوں نمازیں ظہر کے وقت ملا کر پڑھنا ضروری ہیں۔


وقوفِ عرفات: میدانِ عرفات میں اسی قیام کو وقوفِ عرفات کہتے ہیں۔ جو حج کا سب سے اہم رکن ہے۔ وقوفِ عرفات کی اہمیت اس سے واضح ہو جاتی ہے کہ اگر کسی وجہ سے 9ذی الحجہ کے دن یا رات بھی کوئی عازمِ حج یہاں پہنچنے سے رہ جائے تو اس کا حج نہیں ہوگا۔ اور نہ ہی اس کی تلافی کی کوئی گنجائش ہے یہاں خصوصی دعائیں، استغفار او ر کثرت سے حضور نبی اکرمﷺ پر درود پڑھیں کیونکہ حضور نبی اکرمﷺ نے بھی اسی میدان میں اپنی امت کے لیے خوب دعائیں فرمائی تھیں۔


عرفات سے مزدلفہ روانگی: اس دن غروبِ آفتاب کے وقت مغرب کی نماز پڑھے بغیر مزدلفہ روانہ ہو جائیں۔ مزدلفہ میں نمازِ مغرب اور عشاءباجماعت پڑھیں رات مزدلفہ میں ہی قیام کریں اور اسی رات جی بھر کر اللہ کو یا د کریں کہ یہ بڑی افضل رات ہے۔


دس ذی الحجہ کو مزدلفہ سے منٰی روانگی :فجر کی نماز کے بعد مزدلفہ میں وقوف کریں کیونکہ یہ توقف واجب ہے پھر منٰی کو روانہ ہو جائیں۔ منٰی پہنچ کر حجاج کرام کو تین واجبات بالترتیب ادا کرنے ہوں گے۔
یاد رہے کہ عید الاضحیٰ کا دن ہوتا ہے مگر حجاج کرام کو مصروفیت حج کی بنا پر اس نماز سے مستثنٰی رکھا گیا ہے۔

بڑے شیطان کو رمی یعنی جمرہ کو کنکریاں مارنا۔ پہلی کنکری مارنے کے ساتھ ہی تلبیہ پڑھنا بند کردیں۔
رمی سے فارغ ہونے کے بعد قربانی کریں۔
قربانی کے بعد سر منڈائیں یا کتروائیں لیکن عورتیں قصر ہی کروائیں یعنی ایک پورے کے برابر بال کٹوا دیں۔
اب احرام کھول کر غسل کرلیں اور اپنے اپنے کپڑے پہن لیں اب سے احرام کی سب پابندیاں سوائے مباشرت کے، ختم ہوگئی ہیں۔

طوافِ زیارت کے لیے روانگی: احرام کھولنے کے بعد مکہ مکرمہ روانہ ہو جائیں اور چوتھا رکن طوافِ زیارت بھی ادا کریں۔ یہ حج کے فرائض میں شامل ہیں۔ اور 12ذی الحجہ کا آفتاب غروب ہونے تک جائز ہے۔ اس کے بعد دم ( قربانی) واجب ہوگا اور فرض بھی ذمہ رہے گا۔ یہ طواف کسی حالت میں ساقط نہیں ہوتا اور نہ اس کا کوئی بدل


خواتین:۔ اپنی ان فطری اور قدرتی مجبوریوں کے پیشِ نظر ایام حج میں باقی تمام امور اسی طرح انجام دے سکتی ہیں۔ یہ طواف زیارت اس وقت تک کرنا جائز نہیں جب تک وہ پاک نہ ہوجائیں ورنہ دم واجب ہوگا۔ جبکہ اس تاخیر سے ان پر دم واجب نہیں ہوگا۔ اور نہ ہی گناہ۔


صفا و مروہ کے درمیان سعی:۔ اگر عازم حج نے حج تمتع کی نیت سے احرام باندھا تھا تو اس پر اس طواف کے بعد سعی کرنا واجب ہے۔ یعنی احرام کے روز مرہ کے لباس میں ہی کرلیں۔


مکہ سے منی واپسی:۔ جب حج کی ادائیگی ہو چکی تو اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے پھرمنی روانہ ہو جائیں۔ طوافِ زیارت کے بعد دو رات اور دو دن منی میں قیام کرنا سنت موکدہ ہے۔ مکہ میں یا کسی اور جگہ رات گزارنا ممنوع ہے۔ گیارہ بارہ اور تیرہ ذی الحجہ کو مناسک کی اصطلاح میں ایامِ رمی کہتے ہیں۔ ان تینوں تاریخوں میں تینوں جمروں کی رمی کی جاتی ہے۔ رمی کا وقت 11ویں اور 12ویں ذی الحجہ کو زوال کے بعد سے غروب آفتاب تک ہو تا ہے پہلے جمرہ اولی پر سات کنکریاں ماریں۔ پھرجمرہ
وسطی پر آئیں اور بعد ازاں جمرہ عقبہ پر آکر حسب سابق سات سات کنکریاں ماریں اور آگے نکل جائیں۔ پہلے اور دوسرے جمرے پر رمی کے بعد دعا و استغفار اور وقوف مسنون ہے لیکن تیرہ کے بعد ٹھہرنا یا دعا مانگنا ثابت نہیں۔ یاد رہے کہ ہر بار یہی ترتیب ضروری ہے۔ اسی طرح بارہ ذی الحجہ اور اگر چاہیں تو تیرہ ذی الحجہ کو بھی رمی کریں۔ پھر واپس مکہ آجائیں راستے میں حج کی اس نعمت عظمی کے حصول پر اللہ کا شکر ادا کریں۔ اور دعا مانگیں۔


طواف وداع:۔یہ حج کا آخری واجب ہے۔ جو صرف میقات سے باہر رہنے والوں پر واجب ہے کہ وہ مکہ سے رخصت ہونے لگیں تو آخری طواف کر لیں ۔طواف وداع کا وقت طواف زیارت کے بعد سے شروع ہو جاتا ہے۔ اس کے اختتام کا کوئی وقت مقرر نہیں ۔ طواف کے بعد دو رکعت نوافل ضرور پڑھیں پھر آبِ زم زم کے جام نوش کریں۔ ممکن ہو تو چوکھٹ کعبہ کو بوسہ دیں اور مقام ملتزم پر خانہ کعبہ کا پردہ پکڑ کر بار گاہ الہٰی میں دل کھول کر روتے ہوئے ہر جائز دعا مانگیں اپنے لیے، احباب کے لیے، دوستوں کے لیے اور امتِ مسلمہ کے ہر فرد کے لیے کیونکہ یہ وقت اور مقام شاید ہی دوبارہ میسر آئیں۔ اور پھر کعبہ سے آبدیدہ رخصت ہو جائیں۔


دربار رسالت کی حاضری: اب عشاق اپنے اگلے سفر یعنی مدینہ منورہ کی زیارت کے لیے روانہ ہو جائیں۔ اور اس دربار کی حاضری کے لیے مچلتے جذبات، دھڑکتے دلوں اور برستی آنکھوں کے ساتھ کشاں کشاں اپنے آقاو مولا حضرت محمد مصطفیﷺ

کے حضور بصد ادب و احترام حاضر ہوں جہاں عشاق کے دلوں کا حج ہوتا ہے۔
حاجیو! آﺅ شہنشاہِ دو جہاںﷺ کا روضہ دیکھو
کعبہ تو دیکھ چکے اب کعبے کا کعبہ دیکھو



:حضور نبی اکرم ﷺ کے چند مشہور ارشادات ملاحظہ ہوں
جس نے حج کیا اور حج کے بعد مدینہ تک پہنچنے کی طاقت ہوتے ہوئے حج کر کے ہی واپس چلا گیا اور میری زیارت کو نہ آیا اس نے مجھ پر ظلم کیا۔
جس نے میری قبر کی زیارت کی اس کے لیے میری شفاعت وا جب ہوگئی۔
جس نے میرے وصال کے بعد میری زیارت کی گویا کہ اس نے مجھے زندگی میں ہی دیکھا۔