سوال:جب لوگ اللہ سے کسی کام کے لیے دعا مانگ رہے ہوتے ہیں تو وہ کام کیوں نہیں ہوتا؟ جب اللہ کے اختیار میں سب کچھ ہے تو دعا ویسے قبول کیوں نہیں کرتا جیسا ہم چاہتے ہیں؟سب کے سب مسئلے حل کیوں نہیں ہوتے؟ہمیں اللہ کی رضا میں راضی ہونے کا کیوں کہا جاتا ہے؟

ان سب پوائنٹس کا ایک جواب تو صرف اتنا ہے کہ اللہ کے ساتھ کیا اور کیوں نہیں چلتا کیونکہ صرف وہی احکم الحاکمین ہے۔ اللہ بہتر جانتا ہے کہ کوئی کام ہمارے لیے کس وقت اور کیسے بہتر ہے۔ اگر ہمیں یہ یقین ہوتا ہے کہ اللہ ہم سے بہت پیار کرتا ہے اور ہمارے لیے ہمیشہ بہترین فیصلہ کرتا ہے تو اب جس کے دل میں جتنا اس بات کا یقین ہو گا وہ اتنا ہی اللہ کے حکم پر راضی رہے گا۔ اور اسی سے پتہ چلتا ہے کہ ہمارا اللہ پر ایمان کتنا ہے کیونکہ یہ یقین ہی ہمارے ایمان کو ظاہر کرتا ہے۔ کوئی بھی دعا کبھی بھی ضائع نہیں ہوتی ۔اگر وہ کام ہمارے لیے بہتر نہیں ہوتا تو اللہ اس کے بدلے میں کوئی اور نعمت عطا کرتا ہے جسے ہم نہیں سمجھ سکتے ۔اور زندگی کی پریشانیاں ہمارے اپنے اعمال کا نتیجہ ہوتی ہیں۔ قرآن پاک میں ہے کہ جو تمہاری زندگی کی پریشانی یا تکالیف ہیں وہ تمہارے اپنے اعمال کا نتیجہ ہیں۔ اس لیئے اگر ہم اپنے گناہوں پر اچھی طرح نادم ہو کر معافی نہ مانگیں تو ہمارے مسائل حل نہیں ہو سکتے ۔