User Tag List

Page 3 of 3 FirstFirst 123
Results 21 to 22 of 22

Thread: معرکہ

  1. #21
    Administrator
    Join Date
    Feb 2017
    Posts
    118
    Thanked: 2
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    ٭​اگر دیکھا جائے تو پیارے آقائے دو جہاںﷺ نے اپنی اولاد کیقربانی دے کر امت کی بخشش کے لیئے شفاعت مانگی اور جاتے ہوئے بھیذمہ داری لگا دی کہ پھر بعد میںانہی کے کندھوں پرہی بھارر ہے کہ انھوںنے شریعت اور قرآن کو اسی طرح سے آگے پہنچانا ہے ۔ لیکن لوگ یہ باتنہیںسمجھ سکتے کیونکہ اللہ نے ان کے دلوں پر مہریں لگا دی ہیں۔ وہصرف کلمہ نماز، روزہ سمجھ سکتے ہیں۔ ان کی پہنچ اندر خانے تک نہیںہے۔ ساری امت اندر خانے تک نہیں پہنچ سکتی۔ جیسے اگر آپ کے گھرکوئی آئے تو ہر کوئی آپ کے کمرے تک تو نہیں جاتا۔ کوئی گلی تک، کوئیدروازے تک ،کوئی سیڑھیوں تک اور کوئی ڈرائینگ روم تک آتا ہے مگر کوئیچند ہی ہیں جو اندر گھر میں آپ کے کمرے تک آتے ہیں۔ یہ بھی ا ندر خانےکی باتیں ہیں اور یہ وہی سمجھ سکتے ہیں جس پر اندر خانے والوں کی نظرہو۔ ورنہ سمجھ ہی نہیں سکتے ۔ اوریہ سمجھ آجانا بہت بڑی عطا ہے کہ آلؑکا معنی کیا ہے... اور آلؑ اصل میں ہے کیا ...اور وہ آج تک کیا کررہی ہے۔ وہسب ہر کوئی نہیں سمجھ سکتا۔ لوگ آل پاک ؑ اور آل پاک ؑکی قربانی کونہیں سمجھ سکتے۔
    ٭​لوگ حسینؑ کا نام نہیں لے سکتے کیونکہ وہ سمجھ نہیں سکتے کہیہ گہرے راز ہیں۔ یہ وہ خزانے کے نقشے ہیں جو الماریوں میں پڑے ہوتے ہیں۔ یہ نام خزانے کا نقشہ ہے۔ اور جیسے کسی نقشے میں نشان بنے ہوئے ہوتےہیں اور کوئی جاننے ولا آتا ہے جسے پتا ہوتا ہے کہ نقشے میں موجودنشانوں کا مطلب کیا ہے اور ان کو کیسے جوڑنے سے دروازہ کھلے گا۔ایساہی خزانہ ےہ بھی ہے-یہ ایسے ہی راز ہیں۔ اور اگر ہم بھی ان کا نام لے پارہے ہیں تو اس لےے کہ اللہ کے کرم اور اس کی مہربانی سے وہ نقشے جوڑ کر ان کا راز کھول دیاگیا۔ اور اندر وہ احساس دے دیا گیا۔اگرآپ کے دلوںکو درد کا احساس دے دیا ہے اور آپ کا دل اس درد کے احساس کومحسوس کرتا ہے تو یہ کرم کی انتہا ہے۔ ہم پہ کرم کی نظر ہے عنایت ہے کہاپنوں کی محبت کے بیج بوئے۔ اور یہ باتیں سب کو بتانے کی نہیں ہیں۔ کیونکہ یہ درد ہے اور جو کوئی جتنا اپنا آپ دیتا جا رہا ہے اور درد میں ڈوبتاجا رہا ہے۔ اس کے اندر کو کسی پل قرار نہیں۔ وہ ان کی اس محبت کو پانےکی خاطر اور اس محبت کے احساس جو چند لمحوں کے لےے اس کے دل پراترتے ہیں کہ امامِ عالی مقامؑ حضرت امام حسین ؑنے امت کے لےے پیارےآقائے دوجہاںﷺ کو دیا ہوا وعدہ نبھانے کے لےے اتنا کچھ کر دیاکہ جسکی مثال رہتی دنیا تک دوبارہ ملنا ممکن نہیں ، انہی کے حق کے مشن کیسر بلندی کے لیئے اپنے آپ کو مارنے پر اپنا آپ لگا دینے پر تل جاتا ہے۔ تبھی یہ احساس اندر اترتے ہیں کہ اپنا ذاتی طور پر سر قلم توکروا دیتےہیں مگر پورا کنبہ کوہانے/کٹوانے والا کوئی کوئی ہوتا ہے۔ ہر کوئی نہیں کرسکتا۔ اور کوئی ...بھی کوئی نہیں ہے جو یہ کر سکے۔ دوردور تک کوئینہیں ہے۔

  2. #22
    Administrator
    Join Date
    Feb 2017
    Posts
    118
    Thanked: 2
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)
    ٭​قافلہ کربلا والے جو تکالیف، مصائب ،سختیاں اور بھوک پیاس یہاںبرداشت کر گئے۔ اگر ہم ان کے درد کے احساس میں ان زخموں پر مرہم لگاناچاہتے ہیں تو ہمارا یہاں باطل کے ساتھ لڑنا اور حق پر کھڑے رہنا ان کیاس وقت کی تکلیف کی شدت کو کم کرتاہو گا۔ ہمارا ہر طرح کی تنگی میںباطل کے ساتھ لڑنا اور سب کچھ برداشت کرکے تلخیاں جھیل کے پھر بھیحق پر کھڑے رہنا ان کے زخموں پر مرہم کا کام دیتا ہے۔ اس لےے ہم میںسے جو چاہے کہ ان زخموں کے لےے مرہم بنے تو وہ لمحہ لمحہ حق پر کھڑارہ کے حق کی قوت سے باطل کا مقابلہ کرے یہی حق کی راہ کا سفر ہے۔ اور یہ سفر نوکیلے پتھروں پر چلنے کا سفر ہے جس پر زہریلے کانٹے بھیہوںجن کا درد اند ر تک اترتا چلا جاتا ہے ۔جو کوئی اس نوکیلے راستے پرچلتا ہوا حق کی راہ پر آگے بڑھتا ہے وہ درا صل اس کرب و بلا جیسی راہسے کانٹے چن رہا ہوتاہے ۔ باطل کے ساتھ بھی انفرادی یا اجتماعی طور پرنبرد آزمائی کرنا ان کے راستہ کے نوکیلے کانٹے ہٹانا ہے۔﴿٭​حق کی راہ پر لڑتے رہنے کی وجہ سے ہی تنگی اور مصائب کاسامنا ہوتا ہے۔ اگر لڑنا چھوڑ دیں ہتھیار ڈالدیں تو آزمائش بھی نہیں آئےگی۔ اگر لڑتے رہے اور اندر سے قوتِ ایمانی کے بل پر مقابلہ جاری رکھا توکسی بھی طرح کی آزمائش میں نہ صرف ایک نئی طاقت اور قوت ایمانیکے اضافہ کا احساس ہو گا بلکہ ایک ولولہ جوش اور عزم اندر پیدا ہو گا جوباطل سے لڑوائے گا۔ اس لےے جب بھی ایسی صورتحال ہو کہ آزمائش کاسامنا ہو تو وہاں حق کی قوت کو اپنے اندر محسوس کر کے اللہ کے احساسکو تھامے ہوئے ہر لمحہ اس سے مدد مانگتے رہنا ہماری کشتی کو کنارے جالگاتا ہے۔ ہمیشہ دعا کرو کہ ہمیں بھی وہ طاقت نصیب ہو جائے کہ ہم وفاکر سکیں اور ہماری تا قیامت آنے والی نسلیں اور ان نسلوں میں ایک ایکبچہ ان سے وفا کرنے والا اور ان پر جان نثار کرنے والا ہو۔ ہمیںایسی نسلکی بھی چاہت نہیں جو قطر ہ قطرہ ان پر جان لٹانے والی نہ ہو۔ ہمارینسلوں میں بچہ بچہ ان پر تن من دھن لٹا دینے والا ہو۔(آمین)﴿٭​مانگنے والو!... اگر مانگنا ہے تومانگ لو یہی دعا کہ اس دل میں کربو بلا کا درد اتر جائے۔ بس محسوس کرو وہ درد اور کیا مانگنا ہے۔​انہی کا درد... انہی کی محبتیں ...انہی کی نسبتیںمانگو...یہاں اورکچھ بھی نہیں ہے... نہ دنیا میں نہ آخرت میں... تو مانگ لو انہی کی راہمیں قدم مانگ لو۔​ان کے ہی قدموں میں موت مانگ لو... انہی کی غلامی مانگ لو.. اگر یہمل گیا تو سمجھو سب کچھ مل گیا ..اور مانگنے کو کچھ نہیں بچتا... اگران کے قدموں میں بھی جگہ مل گئی تو پھر سمجھو سب کچھ تمہارا ہے...سب اپنے دل سے مانگ لو...سب کچھ انہی کے پاس ہے اور کچھ بھیکہیں بھی نہیں ہے۔ ہم عاشقوں کے لےے ہماراکل جہاں ہی رسول ﷺ و آلِرسول ﷺ ہے۔ ہم ان کو سلام پیش کرتے نہ تھکیں۔ ان پر سلام پیش کرنےکی اجازت مل جائے تو اپنے لےے بہت احسان سمجھیں۔ اگر یہ اجازت ملگئی تو سمجھ لیناکہ یہ احسان کر کے انھوں نے ہمارے سروں پہ یہ تاجرکھ دیا ورنہ ہم کس کھاتے میں ہیں۔﴿٭​ایک بات ہمیشہ یاد رکھنا اور کبھی نہ بھولنا....!!!​محشر صرف انہی ہستیوں کا ہے ۔ انہی کی گرفت میں ہے۔ یہ باتکبھی نہ بھولنا ۔​اللہ نے اتنا لٹایا ہے اپنے ان پیاروں پر کہ کوئی حد نہیں چھوڑی یہاںتک کہ جنت کی سرداریاں بھی انہی کے حوالے کر دیں۔​اللہ نے اتنا لٹایا کہ پھر فرماتا ہے اب جو کچھ بھی لینا ہے میرے انہیپیاروں سے لو۔ غلامی لینی ہے... نجات لینی ہے... جنت لینی ہے... انہی سےلو کیونکہ جو کچھ بھی ملنا ہے انہی سے ملنا ہے... اور کہاں سر ٹکرا تےپھر رہے ہو۔کہیں بھی جاﺅ گے توکہیں بھی کچھ نہیں ہے... اور نہ ملے گا۔ بس پتھر ہیں... زمین ہے اور وہ کیا دیںگے۔ اللہ تو پنجتن پاکؑ کا ہے اور اللہتو اور کہیں سے بھی نہیںملتا۔ تم زمینوں پر ماتھے گھساتے ہو ...زمین کیادے گی... زمین تو مقروض ہے آلِ نبیﷺ کی... وہ کیا دے سکتی ہے۔ اس پرسجدہ کرنے سے کیا ملے گا۔ ادھرصرف زمین پر ماتھے ٹکائے ہوئے سجدےہمیں کچھ نہیں دے سکتے۔ جب تک پنجتن پاکؑ کی محبت کی شمع نورِایمانیکی صورت دل میں روشن نہ ہو۔نورِایمانی سے خالی دل لیئے زمین پر ماتھےرگڑ کر کچھ نہیں ملتا۔بیچاری زمین تو خود شرم سے منہ چھپاتی پھر رہیہے کہ آلِ نبیﷺ نے اپنے خون سے دین کا نصاب زمینِ کربلا پر لکھ دیا اوراسی لیئے زمین مقروض ہے ...پانی منہ چھپاتا پھر رہا ہے... اب تک اس کوکہیں بھی پناہ نہیں ملتی... اگر ہم کوئی پناہ چاہتے ہیں تو دین ہماری پناہگاہ ہے ...اور دین تو پھر ہے ہی انہی کی پناہ میں....آج ہم تک جو دینِ حقپہنچا تو وہ انہی کی پناہوںمیںپہنچا.... تو ہماری پناہ تو خود انہی کی پناہمیں ہے... پناہ اور کہیں نہیں مل سکتی۔ پناہ کہیںاور نہیں ہے ...اور ہم انہیسے بھاگتے ہیں۔افسوس!.....ہماری نادانی....!​اس لیئے یاد رکھنا...! ​اگر حق کی پہچان پانا چاہتے ہو....اگر اللہ کے نورِایمانی سے دل منورکرنے ہیں.... اگر دینِ اسلام پر عمل پیرا رہنا ہے اور اگراخروی نجات کی راہپانی ہے.... جنت پانی ہے... تو خود کو اللہ کے انہی پیاروں کی محبت کیپناہ گاہوں میںدے دو۔آشنائے حق رہو٭....٭....٭

Page 3 of 3 FirstFirst 123

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •