User Tag List

Results 1 to 1 of 1

Thread: باطل کا تیسرا کھلاڑی نفس

  1. #1
    Administrator
    Join Date
    Feb 2017
    Posts
    824
    Thanked: 5
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    باطل کا تیسرا کھلاڑی نفس

    باطل کا تیسرا کھلاڑی نفس


    ا ور میں اپنے نفس کی برات (کا دعوٰی) نہیں کرتا، بیشک نفس تو برائی کا بہت ہی حکم دینے والا ہے سوائے اس کے جس پر میرا رب رحم فرما دے۔ بیشک میرا رب بڑا بخشنے والا نہایت مہربان ہے۔
    (سورة یوسف آیت53)


    نفس ہمارے اندر موجود ایک خود کار آلہ ہے جس کی وجہ سے خواہشات جنم لیتی ہیں۔ یہ خواہشات مثبت بھی ہوتی ہے اور منفی بھی۔ مثبت خواہشات اللہ کے راستہ پر آگے بڑھنے کی طرف راغب کرتی ہیں۔ اور منفی خواہشات کا تعلق دنیا اور اس کی لذتوں سے ہوتا ہے۔ نفس کا منفی پہلو پھنساتا ہے ۔اور اگر مثبت خواہشات غلبہ پاتی رہیں تو ہم نفس کے ہاتھوں مغلوب نہیں ہوتے بلکہ اس پر غلبہ پا کے حق کی راہ پہ آگے بڑھتے چلے جاتے ہیں۔

    ا ور میں قسم کھاتا ہوں (برائیوں پر) ملامت کرنے والے نفس کی
    (سورة قیامت آیت2)

    تفسیر مودودی :قرآن مجید میں نفس انسانی کی تین قسموں کا ذکر کیا گیا ہے۔ ایک وہ نفس جو انسان کو برائیوں پر اکساتا ہے۔ اس کا نام نفس امارہ ہے۔ دوسرا وہ نفس جو غلط کام کرنے یا غلط سوچنے یا بری نیت رکھنے پر نادم ہوتا ہے اور انسان کو اس پر ملامت کرتا ہے۔ اس کا نام نفس لوامہ ہے اور اسی کو ہم آج کل کی اصطلاح میں ضمیر کہتے ہیں۔ تیسرا وہ نفس جو صحیح راہ پر چلنے اور غلط راہ چھوڑ دینے میں اطمینان محسوس کرتا ہے۔ اس کا نام نفس مطمئنہ ہے۔

    سورة قیامت میں اللہ فرماتا ہے کہ نفس اپنی جبلت کے مطابق امارہ بِسویعنی برائی کی جانب راغب کرنے والا ہوتا ہے۔ مگر جب انسان اللہ کے احکام ماننے کی کوشش کرتا ہے تو نفس میں بہتری آتی ہے اور وہ نفس لوامہ بن جاتا ہے۔ جس کی وجہ سے انسان اللہ کے احکام پر عمل بھی کرتا ہے اور غلطیاں بھی کرتا ہے۔ مگر جب گناہ کر بیٹھے تو نفس ملامت کرتا ہے اور انسان توبہ کرتا ہے۔ یہ نفسِ لوامہ کہلاتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ نفسِ لوامہ انسان کو اللہ کے قرب میں جانے کے لیئے زیادہ کوشش نہ کرنے پر بھی ملامت کرتا اور اکساتا ہے۔ اللہ کی مدد اور کرم سے جب انسان گناہ سے بچنے ، عمل صالح اور عبادات کو اللہ کا قرب حاصل کرنے کے لیئے اپنی عادت بنا لیتا ہے تو وہ نفسِ مطمئنہ بن جاتا ہے۔

    نفسِ مطمئنہ اللہ کی رضا پر راضی رہتا ہے۔ نفس مطمئنہ وہ نفس ہے جس کی تسکین صرف اللہ کے ذکرسے ہوتی ہے۔ اسی کی وجہ سے دل کو اطمینان ہوتا ہے۔روح نیکی کرنے میں اطمینان پانے لگتی ہے یہاں تک کہ بندہ اللہ کے حکم پہ راضی ہو جاتا ہے۔ اور یہاں سے آگے مقام رضا شروع ہوتاہے جہاں بندہ اپنے رب کی رضا کا طالب ہوتاہے۔ اور اسی طلب میں اللہ کی رضا پر اپنے سب اختیار قربان کرتا چلا جاتا ہے۔


    نفس کی جنگ سے مراد خیروشر کی جنگ ہے۔ جس وقت خیر کی راہ پر چلنے لگیں گے تو شرضرور اپنے تمام ہتھکنڈے استعمال کر تے ہوئے روکنے کی کوشش کر تا ہے۔ عموماََ ہمارے اندر خیر کی قوت اتنی زیادہ نہیں ہو تی کہ وہ شر پر
    ، شیطان پر، ہمارے اندر نفس کے حملے اور باہر دنیا کی صورت ہونے والے حملہ پر غالب رہے ۔ کیونکہ ہمارے اندر ایمان کی قوت اور طاقت عام طور پراتنی زیادہ نہیں ہو تی کہ وہ ہر وقت شر پر غالب رہ سکے۔ اسی وجہ سے ہمیں جنگ کر نا پڑ تی ہے لڑنا پڑتا ہے۔ جب لڑ کر خود پر کنٹرول کر لیتے ہیں شر پر غلبہ حاصل کر لیتے ہیں تو پھر جس قدر اس کے ساتھ جدوجہد کر تے ہیں اتنی ہمیںپاور مل جا تی ہے اور اگلی بارہم زیادہ پاور سے شر سے لڑ تے ہیں۔ ہر بار جب اندر کی جنگ ہو تی ہے تو جنگ جیتنے کے لیے جتنی ہم نے جدوجہد کی ہو تی ہے اتنی ہی ہمیں اور پاور مل جا تی ہے۔ اور یہ پاور ہماری روح کو ملتی ہے۔ ہر بار جنگ جیتنے پر ہماری روح پاور میں آجا تی ہے اور اس طرح ہم آہستہ آہستہ نفس کی جنگ میں نفس پر غالب آ نے لگتے ہیں۔


    اصل میں ہم روح کی پاور سے لڑتے ہیں۔ اگر روح طاقت میں نہیں ہے کمزور ہے تو پھر یہ لڑ نہیں سکے گی اور شر غالب آجائے گا۔ جب جنگ کرنے کے قابل ہی نہ ہو گی تو وہاں سارا قبضہ شر کا ہو گا۔ جہاں ایمان ، یقین کے ہتھیار ہی نہ ہوں وہاں روح جنگ کیسے کرے گی۔ جہاں ذرا بھی روح طاقت میں ہو تی ہے تو وہ شر کے خلاف جنگ کر تی ہے۔ دراصل روح کی طاقت سے جنگ کی جا تی ہے مگر وہ اتنی نہیں ہو تی کہ مکمل طور پر ہر قسم کے شرکا مقابلہ کرسکے ۔لیکن کسی بھی لیول پر شر کے ساتھ لڑتے رہنا ہمیں پاور دیتا ہے اور بتدریج اس پاور کو ہم شر سے جنگ کر تے ہوئے بڑھاتے جار ہے ہو تے ہیں کیونکہ جنگ کے بغیر پاور نہیں ملتی ۔ اس کے لیے نفس کے حوالے ہر باریک سے باریک اور چھوٹے سے چھوٹے نکتہ پر کام کرنا ہو تا ہے اور جب ان پر کام کر تے ہیں تو بے شک اللہ کے کرم اور مہربانی سے طاقت ملتی جا تی ہے اور اسی پاور کے ملنے کی وجہ سے شر حملہ نہیں کرتا۔ جیسے کہ کہتے بھی ہیں کہ اللہ والوں کے قریب شیطان نہیں آتا۔ ان کے اندر اللہ کا احساس آشنائی اور یقین اتنا مضبوط ہو تا ہے کہ وہ نفس ہو شیطان ہویا دنیا ، وہ اللہ والوں کے قریب نہیں پھٹک پاتے۔ البتہ نفس کی جنگ مرنے تک یعنی آخری سانس تک جاری رہتی ہے۔

    نفس ہمارے اندر ان ناپاک ارادوں کو پیدا کرتا ہے جن کی وجہ سے ہمارے اعما ل برا ئی میں ڈھل کر سامنے آتے ہیں۔ یہ نفس ہی ہے جو ہمیں اللہ کی آشنائی سے دور کرتا ہے۔ ذات کی پیروی پر اکساتا ہے۔ دنیاوی خواہشات کو اپنائے رکھنے اور پورا کرنے پر اکساتا ہے۔ اس سب میں ہی پھنسے رہنے پر مجبور کرتا ہے۔ اس سے حق کی طاقت سے ہی نبرد آزما ہوا جا سکتا ہے۔ نفس ایک ایسی دلدل کی طرح ہے جس میں پاﺅں رکھنے کے بعد انسان دھنستا ہی چلا جاتا ہے۔ یہ غلط کو بھی صحیح بنا کر پیش کرتا ہے اور اللہ کی قربت کی راہ میں دیوار بن جاتا ہے۔ نفس کی لگام ہمارے اپنے ہاتھ میں ہے۔ یہ ہم پر منحصر ہے کہ اس پر سواری کرتے ہیں یا اس کو خود پر سوار ہونے کا موقع دے دیتے ہیں۔

    نفس کے ساتھ مقابلہ ہر لمحہ جاری رہتا ہے۔ کیونکہ یہ مقابلہ ہی حق کے راہی کی پہچان ہے۔ لمحہ لمحہ ذات پر گہری نظر رکھتے ہوئے نفس کا مقابلہ کرنا اندر حق کی پاور کو بڑھاتا ہے۔ ہماری خواہشات اور مرضیوں کو اپنی راہ پر بے لگام کر کے ہمیں گمراہ کر لینا ہی نفس کا کام ہے ۔ لیکن حق کی پاور ہی اس بے لگام سرکش گھوڑے کو قابو کرنے میں ہمیں مدد دیتی ہے۔ نفس پر کام نہ کرنا ہمیں منفی خواہشات میں پھنسا ئے رکھتا ہے ۔کسی بھی طرح کی منفی سوچیں، ارادے، خیالات، احساسات ہمیں اپنے اصل مقصد سے غافل کر دیں توسمجھیں نفس نے ہمیں اپنے جال میں پھنسا لیا ہے۔

    نفس کے خلاف جنگ کا آغاز تب ہوتا ہے کہ جب ہمیں آشنائی ہو جائے کہ یہ ہی ہمارا دشمن ہے۔ ہم اس کو اپنا سمجھ کر اس کی ہر بات مانتے چلے جاتے ہیں اور اس کے چنگل میں پھنس جاتے ہیں۔نفس سے جنگ اللہ کی قربت کو منزل بنا کر جنون منزل کے بل پہ لڑی جاتی ہے ۔ ہر وہ شے جو منزل کے حصول کی راہ میں رکاوٹ بن جائے اسے مار گرانے کے لےے نفس کی جنگ لڑی جاتی ہے ۔ حق کا راہی کسی بھی طرح کی رکاوٹ کو عبور کرتا جاتا ہے جو اس کی منزل کی طرف بڑھتے سفر کو سست کر ے یا روکنے کا موجب بن جائے۔ نفس ایسی ہی رکاوٹ ہے اس لےے اس سے جنگ لمحہ لمحہ جاری رہتی ہے ۔ نفس کبھی دنیا کی لذتوں ، کبھی مایوسی ، کبھی شکوہ، کبھی بے یقینی ، کبھی کم ایمانی کی صورت میں حملہ کرتا ہے۔ اس کے خلاف اقدام کرنے کے لےے اپنی غلطی کو پہچان کر اس کے خلاف جنگ کاآغاز کرنا ضروری ہے۔ نفس در اصل ہمارے اندر ہماری آزمائش کے طور پر رکھا گیا ہے۔ اس کا کام ہمیں اپنے جال میں پھنسانا ہے اور ہمارا کام اس کے جال سے بچ نکلنا ہے۔


    نفس کی جنگ لمحہ لمحہ جاری ہے۔ ہم کبھی مکمل نہیں ہو سکتے کیونکہ کامل ترین ذات صرف آقائے دوجہاں ﷺ کی ہے ۔لہذا ہم نفس کی جنگ تا دم آخر لڑتے رہتے ہیں۔ ہم کبھی بھی کسی بھی مقام پر مکمل نہیں کہلا سکتے ۔ ہمارے اندر کسی نہ کسی زاویہ سے جھول یا کمی ہو تی ہے۔ اور جہاں جھول یا کمی ہو گی وہاں اس زاویہ سے نفس کی جنگ جاری رہے گی۔ اس کے لیے ہر لمحہ ہر پل خود پر نظر رکھنا لازمی ہے۔ اگر ہم غور کریں تو ہم بہت سی چھوٹی چھوٹی چیزوں میں پھنسے ہوتے ہیں۔ وہ چیزیں ہمیں نظر تب آئیں گی جب ہم نے خود پر نظر رکھ کر ان چیزوں کو اپنے اندر سے ڈھونڈ کر نکالا ہو گا اورپھر اس زاویہ سے نفس کی لڑائی آغاز کی ہو گی۔ اور اگر ہم نے خود پر نظر رکھنا نہیں سیکھا ہو گا تو ہم نفس کی جنگ جاری نہیں رکھ سکیں گے۔

    خود پر نظر رکھ کر جب اپنی کسی برائی کو ڈھونڈ یں تو اس حوالے سے نفس کی جنگ کرنے کے لیے پہلا قدم یہ ہے کہ قبول کر لیا جائے کہ ہمارے اندر یہ برائی ہے۔ جب تک ہم اس بات کو قبول نہیں کریں گے، خود کو غلط نہیں مانیں گے ہم اس پر کام نہیں کر سکتے۔ جیسے ہی ہم تسلیم کر لیتے ہیں،ہمارا دل قبول کر لیتا ہے تو دل کی حالت بدل جا تی ہے اور اندر احساس شرمندگی و ندامت پیدا ہو جا تا ہے اور ایسی حالت میں ہمیں اللہ کے سامنے پیش ہو جانا چاہیے۔ حقیقت کا سامنا کرتے ہی ہمیں اپنا اصل چہرہ نظر آ جا تا ہے اور جیسے ہی ہم دل سے شرمندہ ہو تے ہیں تو معافی مانگتے ہیں۔ اور جب معافی مانگتے ہیں تو بے شک اللہ کا کرم اور اس کی مہربانی ہو تی ہے کہ وہ نہ صرف گناہ دھو دیتا ہے بلکہ نیکیاں بھی عطا کر تا ہے اور جب وہ ہمیں نیکیاں عطا کر دیتا ہے تو ہمیں نفس و شر پر قابو پانے کی تھوڑی اور طاقت مل جا تی ہے۔اس لیے یہ نہیں ہو سکتا کہ نفس پر کام کر کے ہم نفس پر مکمل کنڑول کر لیں گے بلکہ ہمیں ہمیشہ بہت سے حوالوں و زاویوں سے نفس پر کام کرنا ہوتا ہے۔

    ہم غلطیاں کر تے ہیں اور پھر نفس پر کنٹرول سیکھتے ہیں۔ اور ہم غلطیاں کر تے رہتے ہیں کیونکہ ہم کمزور ہیں لہذا ہم سے غلطیاں سرزد ہو تی رہیں گی ۔ جب ہم سے غلطی سرزد ہو جائے تو ہم فوراََ احساس شرمند گی کے تحت اللہ سے معافی مانگیں کہ تو ہمیں بچالے ہم سے غلطی ہو گئی۔ ہم اللہ سے مدد مانگیں کہ ہم سے دوبارہ وہ غلطی سرزد نہ ہونے دے۔ یوں بے شک ہم وہ غلطیاں تو نہیں دہراتے لیکن کوئی اور غلطی ہم سے سر زد ہو جا تی ہے۔ کیونکہ قرآن پاک میں کہا گیا ہے کہ ہم نے انسان کو ضعیف پیدا کیا ہے ۔ہم سے غلطیاں ہو ں گی اور ہم اس پر شرمندہ ہوں گے اور معافی مانگ کر پھرسے اللہ کے قریب چلے جائیں گے۔ پھر کبھی کوئی غلطی کر یں گے اور یو نہی چلتا رہتا ہے۔ مگر نادم ہونا اور معافی مانگنا ضروری ہے کیونکہ اللہ کا حکم ہے اگر معافی نہیں مانگو گے ،شرمندہ نہیں ہو گے تو تم لوگوں کو برباد کر کے یہاں ایسی قوم آباد کروں گا جو غلطی کریں گے اور معافی مانگیں گے۔ یہاں یہ واضح رہے کہ یہ نہ ہو کہ ہم دانستہ طور پر غلطیاں کریں یا اپنے آپ کو گنجائش دینے لگیں اور ڈھیلا چھوڑ دیں۔ جب اس انتہا تک ہم اپنی غلطیوں کو پکڑنے تک آتے ہیں تب ہم خود پر گہری نظر رکھ کر باریک باریک نکتوں کو اپنے اندر سے نکال کر ان پر کام کر تے ہیں اور یوں نفس کا جہاد زندگی کے آخری لمحہ تک جاری رہتا ہے۔

    نفس کے حوالے سے مختلف زاویوں سے کام کر نا ہو تا ہے ۔ اور ان زاویوں سے نفس پر کام کرتے ہوئے کئی مراحل سے گزرنا ہو تا ہے۔ اور بعض اوقات جب نفس پر کام کے نکتے سامنے آتے ہیں تو ہم خود حیران ہو تے ہیں کہ یہ گند بھی ہمارے اندر موجود تھا۔

    روز مرہ کے معمولات اورمعاملات کو ہی دیکھ لیں ۔ہم کہیں لوگوں کے درمیان بیٹھے ہوں تو بات کر تے ہوئے
    اپنی انا کے زعم میں یوں بولتے ہیں کہ ہمارے الفاظ، لہجہ ، انداز ، آنکھوں کے تاثرات اور ہاتھ ہلا نا سب کے سب ہماری ذات کی آئینہ داری کر رہے ہو تے ہیں۔ جب ہم کسی عام سے غریب آدمی سے بات کر رہے ہوں گے تو یہ سب انداز اور ہوں گے۔ اور جب ہم کسی اچھے امیر آدمی سے بات کریں تو تب یہ انداز مختلف ہو تے ہیں۔ اب ذرا غور کریں کہ جب ہم مختلف سٹیٹس کے بندوں کے درمیان بیٹھے ہوں... وہاں ہمارے انداز، ہماری انا کی غمازی کر رہے ہوں... تو اس وقت ہم کیا ظاہر کرنا چاہ رہے ہو تے ہیں؟ ہم کس چیز کی تعریف کر وانا چاہ رہے ہوتے ہیں؟ وہاں ہمارے کسی بھی احساس میں اللہ ہو تا ہے؟ ہمیں کسی بھی حوالے سے اللہ کے ساتھ کا احساس ہو تا ہے؟ ہم کس کے لیے وہ دکھاوا کر رہے ہو تے ہیں؟وہ سب دکھاوا ،وہ ریا کاری اور اس میں انا اور تکبر کا مظاہرہ اللہ دیکھ رہا ہو تا ہے۔ وہ ہماری اصلیت سے واقف ہوتا ہے اور خاموشی سے دیکھتا ہے۔ اور ہمیں احساس تک نہیں ہو تا کہ ہم جو کچھ کر رہے ہیں وہ اس کو نا پسند ہے۔ دراصل یہ سب ہم نفس کی اندھا دھندپیروی میں کرتے ہیںکیونکہ ہمیں نفس نے اپنے جال میں پھنسایا ہوتا ہے ۔

    نفس پلیت اور دنیادار ہے ۔جہاں جہاں رہتا ہے وہیں گند کر تا ہے۔ ضدی بھی ہے ۔بے حیا بھی ہے۔ پلٹ پلٹ کر وار کر تا ہے۔ یہ رنگ بدلتا رہتا ہے۔ اپنے مطلب کے عمل اور مطلب کی چیز کو خوبصورت بنا کر دکھانے کا فن جانتا ہے۔ سب سے پہلے ہمارے ذہن پر وار کر تا ہے اور اپنا مقصد پورا کرنے کے لیے ہمیں استعمال کر تا ہے۔ اور ہم سے ہر برے عمل کے لیے یہ منواتا ہے کہ ایسا ویساکچھ نہیں ہو گا۔ مختلف طرح کی توجیہات سامنے لاتا ہے کہ ایسا تو سب کر تے ہیں۔اسمیں کوئی قباحت نہیں۔ اسکے وار کرنے کا طریقہ یہ
    ہے کہ یہ چاہے گا کہ اس کی تعریف کی جائے۔ ذہن کی اختراع کی ہوئی بدنما اور گندی چیز کو خوبصورت اور وقت کی ضروت بنا کر دکھائے گا۔

    آنکھ رنگ اور منظر سے لطف اندوز ہو نا چاہے گی اور وہ سب دیکھنا چاہے گی جس سے گریز کرنا ہوتاہے۔ نفس کان کے ذریعے فحش باتوں میں مزہ پیدا کر ے گا اور زبان سے ہر نا پسندیدہ بات کرنے میں مزہ دلائے گا۔بھلائی کے کام میں یہی نفس ہمیں سستی اور کاہلی کی راہ فراہم کر تا ہے۔ جنس مخالف سے روابط رکھنا اور ان سے سکون پانا اس کی سب سے بڑی چاہت ہو تی ہے۔ کیونکہ اس میں نفس پوری طرح غالب آ جاتا ہے اور انسان کی ہر حس کو اپنے تابع کر کے ا ستعمال کر تا ہے۔ دماغ اس کا ساتھی ہے۔یہ کام پورا ہونے تک

    سب اچھا ہے کی رپورٹ دیتا رہتا ہے۔ اسطرح نفس ہم پر اپنی حکمرانی کر تا ہے ۔ انسان اسی

    کی تابعداری میں جو بھی گناہ کر تا ہے اس کا مزہ تھوڑی دیر کا ہی ہو تا ہے مگر اس کا بُرا اثر ہماری اگلی ساری زندگی پر بہت گہرا مرتب ہو تا ہے۔
    نفس کو ہم کبھی ختم نہیں کر سکتے پر اس پر ہم قابو پا سکتے ہیں۔ جس طرح کسی سر کش گھوڑے کو تربیت دے کر قابو کیا جا تا ہے اور اس کو لگام ڈال کر اس سے اپنی مرضی کے مطابق کام لیا جاتا ہے بالکل اسی طرح نفس کو لگام ڈالی جا سکتی ہے۔ بے شک یہ کام بہت ہی مشکل ہو تا ہے مگر نا ممکن تو نہیں ہوتا۔ جولوگ نفس پر قابو پالیتے ہیں وہ بہادر اور بے باک لوگ ہوتے ہیں۔

    دنیا باہر سے جبکہ نفس ہمیں اندر سے بہکاتا ہے اور بیمار کر تا ہے۔ اور اندرونی بیماری بیرونی بیماری سے زیادہ خطرناک ہو تی ہے۔ کیونکہ یہ بیماری اندر ہی اندر پھیلتی ہے اورپھر آہستہ آہستہ باہر بھی اس کے اثرات ظاہر ہونے لگتے ہیں۔ نفس بھی ایسے ہی اپنا جال پھیلاتا ہے ۔پہلے ایک سوچ بیدار ہو تی ہے پھر اس پر عمل ہوتا ہے۔ اس لیے پہلا کام تو غلط سوچ کو ہی روکنا ہوا کہ اس کا نتیجہ کیا ہو گا۔ اگر ہم غلط سوچ کو روک نہیں سکتے تو پھر اس پر عمل نہ کر کے اس کے نتیجے کو تو کم از کم تبدیل کیاہی جا سکتا ہے اور اگر ہم ایسا بھی نہیں کر تے تو پھر نفس اپنے مقصد میں کامیاب ہو جا تا ہے اور اس کا نتیجہ ہمارے سامنے ہو تا ہے۔

    ہماری دنیا کو خوش کرنے کی عادتیں ، حرص، لالچ، نفرت ، احساس برتری، خاندانی حسب نسب کا فخر و غرور، خود غرضی، طعنہ زنی، بے صبری اور ذاتی مفادات کی خاطر الزام تراشی یابہتان لگا دینا ، نفس کی گندگی اور سستی وکاہلی کی وجہ سے فرائض اور احکامات دین سے غفلت برتنا ...وغیرہ وغیرہ یہ سب نفس کی پسندیدہ غذائیں ہیں ۔ نفس روز بروز موٹا تازہ اور طاقتور ہو تا جاتا ہے اور ہم دن بدن اس کے شکنجے میں پھنس کر اس سے آزاد ہونے میں کمزور ہو تے چلے جا تے ہیں۔ ہم نے نفس کو خود ہی پالا ہو تا ہے اور اپنی روح کو اس کی غذا یعنی عمل صالح سے محروم رکھ کر کمزور کر دیا ہو تا ہے۔افسوس ہے کہ... جو اپنا دوست اور ساتھی ہو تا ہے اس کو بھوکا مارتے ہیں اور دشمن کو طاقتور کر کے اس کی خاطر مدارت کر تے ہیں۔ ہم روحانی طور پر کمزور ہو جا تے ہیں اور اس طرح مختلف طریقوں سے نفس کا ہمیں پھنسانا آسان ہو جا تا ہے۔اور پھر نفس ہمیں نچاتا ہے اور ہم اس کے اشاروں پر ناچتے رہتے ہیں۔ اور ہم نفس کی ڈگڈگی پر ناچنے والے بندر بن جاتے ہیں۔

    بات یہ ہے کہ نفس کو ہوس عطا کی گئی ہے۔ نفس جب دنیا کی طرف رغبت دلاتا ہے تو ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اب یہ تھوڑا بہت تو دنیا میں رہنے کے لیے کرنا ہی پڑتا ہے۔ ہمیں پتہ نہیں چلتا کہ جیسے ہی نفس کے کنوئیں میں ذراسا ڈول ڈالا تو اسکی ڈیمانڈ بڑھے گی ۔ ہم نفس کی ہوس پوری کرنے کے لیے مجبور سے مجبو ر تر ہو تے جائیں گے اور اس طرح ساتھ ساتھ نفس کا کنواں ہوس کی شدت بڑھاتا جائے گا۔ اور اسی کی ہوس کو پورا کرنے میں خود کو ظلمت کے اندھیروں میں گم کر تے جائیں گے۔

    کیا آپ نے اس شخص کو دیکھا ہے جس نے اپنی خواہشِ نفس کو اپنا معبود بنا لیا ہے؟ تو کیا آپ اس پر نگہبان بنیں گے۔
    (سورةالفرقان آیت43)


    اگرہمیں اپنے جسم پر کوئی چھوٹا سا کیڑ ا بھی رینگتا ہوا محسوس ہو تو ہم ایک لمحہ بھی ضائع کئے بنا اسے زور سے ایسے جھٹک دیتے ہیں کہ وہ نظر بھی نہیںآتا۔ ایسے ہی نفس نے ہمارے اندر کتنے کیڑے اور غلاظتیں پھیلائی ہو تی ہیں ۔لیکن اس نے ہمیں اتنا بے خبراور بے حس کر دیا ہوتا ہے کہ ایک بے ضرر کیڑے کو تو ہم ایک لمحہ کو بھی برداشت نہیں کر تے لیکن اپنے نفس کی پھیلا ئی ہوئی غلاظتوں سے بے حس ہو تے چلے جا تے ہیں۔ اور ہمیں احساس سے عاری کر دینا یعنی بے حس کر دینا ہی نفس کا اصل مقصد ہے تاکہ اندر کی غلاظتوں کا احساس ہی نہ ہو۔

    نفس ہمارا خاموش اور چھپا ہوا دشمن ہے اس کا وار بھی سامنے واضح نظر نہیں آتا ۔یہ جب کسی کو پھنسا تا ہے تو پتا بھی نہیں چلنے دیتا اور اس کا وار کام دکھا جاتا ہے۔ نفس کی ایک اور چالاکی یہ ہے کہ یہ نقصان ہو تے وقت محسوس بھی نہیں ہونے دیتا کہ ہمارا نقصان ہورہا ہے۔ یہ بہت چالاکی سے انسان کو اپنے ساتھ ملا کر سارے کام کراتاہے اور جب اچھی طرح کوئی پھنس جا تا ہے تو وہ اسی پھنسے رہنے میں خوش رہتا ہے کیونکہ اس کے جال میں پھنسنے کے بعد اس میں سے نکلنے میں تکلیف ہو رہی ہوتی ہے۔نفس زیادہ تر ہمیںہماری ذات میں پھنسا تا ہے کیونکہ ذات سے آزادی ہی اللہ کی قربت عطا کر تی ہے۔ نفس اپنے جال میں پھنسا کے ہمیں زندہ ہوتے ہوئے بھی مردہ دل یعنی مردہ ضمیر بنائے رکھتا ہے۔ نفس ہر الٹا کام کراتا ہے اگر ہم کوئی کام سیدھا بھی کرنا چاہیں تو وہ اس کے لیے ہمیںدو چار الٹے سیدھے راستے دکھانے لگتا ہے۔ یہ نفس ہی ہے جو ہر اس شخص سے نفرت پیدا کرتا ہے جس سے کبھی ہماری انا پر چوٹ پڑی یا جس کی وجہ سے ہمارا کوئی نقصان ہوا ہو یا جو ہمیں ہماری ذات میںپھنسے ہونے کا احساس بیدار کرائے۔نفس ہی ہمیں اپنا مطلوبہ و متوقع نتیجہ حاصل نہ ہونے پر ہمیں اللہ کی رحمت سے ما یوس کر تا ہے۔

    ایسے تمام احساس جو اطاعت سے روکتے ہیں اور عاجزی کو ختم کر کے حدود سے تجاوز کرنے پر مجبور کر تے ہیں وہ سب بھی نفس کی ہی چال ہیں۔نفس ہمیں ہمارے ہی ہاتھوں ذلیل و خوار کراتا ہے۔ یہ دل کو اللہ کی محبت کے احساس سے خالی کر کے اللہ کی قربت اور آشنائی سے دور رکھتا ہے۔نفس ہمیشہ ساتھ دیتا ہے ہر اس معاملے میں ہر اس ضرورت پر ، ہر اس چاہت اور خوشی کو پورا کر نے کے لیے جس میں وقتی لذتوں، رنگینیوں اور آسائشوں سے لطف اندوز ہو نے کے امکان موجود ہوں۔ اور یہ نفس ہی ہے جو رہ رہ کر ہمیں خوف
    زدہ کر تا ہے کہ اللہ کے راستے پر چلنے میں بھلا کہاں یہ سب مزے ملیں گے اور اس طرح ہر بار اس کے سامنے ہم گھٹنے ٹیک کر اپنا آپ پیش کر دیتے ہیں۔ ہر بار یہ زہریلا ناگ ہمیں ڈس لیتا ہے۔ پر ہم نادان انسان اس کے زہر کے ہاتھوں اپنے ضمیر کو مردہ کر تے ہی رہتے ہیں اور نفس ہم پر راج کر تا ہے۔

    یہی نفس اللہ کی مقرر کر دہ حدود سے تجاوز کر نے کے لیے کبھی جنسی جذبات و بے راہ روی پیدا کرتا ہے۔ اور کبھی یہی دنیاوی مال و متاع اور اعلیٰ معیار زندگی کی ہو س پیدا کر کے بھی ہمیں بھٹکا تا ہے۔ اور اس دنیاداری کے مقاصد کو اتنا دلکش بناتا ہے کہ ہم ان کے حصول کے لیے ہر خطر ناک حد سے گزر جا تے ہیں۔نفس ہی ہمیں نفرت پر اکساتا ہے اور اللہ کے بندوں سے دور کر تا ہے۔ نفس ہمیں اللہ کا بندہ نہیں رہنے دیتا۔ وہ ہمیں نفس کا بندہ اور غلام بنانے کی پوری کوشش کر تا ہے۔ یہ اندر کا چور ہے جو ہمارے اندر گھسا ہوا ہے۔ ہمیں ہر لمحہ اس سے الرٹ رہنا ہے اور اس کی تلاش میں ہر لمحہ اپنا اینٹی وائرس سسٹم تیار رکھنا ہے۔ اگرہم اس سے محتاط نہ رہے تو یہ وائرس ہمارے اندر کے سسٹم کو بری طرح متاثر کر کے ہر جگہ اپنا قبضہ جمائے گا۔ اس لیے بالکل ایسے ہی جیسے اگر کمپیوٹر میں وائرس آ جائے تو اس کا اندر کا اینٹی وائرس پروگرام فوراََ اس کو پکڑ کے ختم کرتا ہے۔ اگر ہم بھی الرٹ رہیں اور ہر لمحہ تاک میں رہیں تو نفس کا کوئی بھی حملہ کسی بھی صورت میں ہونے پر فوراََ پہچان کر اس کا موثر جواب دے سکتے ہیں اور یوں اسے شکست سے دو چار ہو نا پڑتا ہے۔

    جب ہم اپنی خواہشات کی تکمیل کے لیے حدود سے تجاوز کر تے ہیں... یا ان کے حاصل نہ ہونے کی صورت میں مایوس اور نا امید ہو جا تے ہیں... یا حاصل ہو جانے کی صورت میں اپنے زورِ بازو پر بھروسہ یا فخر وغرور آ جا تا ہے تو ایسے میں نفس کے شکنجے میں جلدی آ جا تے ہیں کیونکہ اس وقت دل اللہ کے احساس سے عاری ہو تا ہے۔ اصل میں ہمیں زندگی میںنفس کے ہاتھوں ہونے والے نقصان کا احساس ہی بہت کم ہو تا ہے ۔بس نادانی میں ہم اپنی لگامیں نفس کے ہاتھ میں دے کر آنکھیں بند کر کے چلتے جاتے ہیں۔ اگر خوش قسمتی سے کبھی آنکھیں کھلتی ہیں تو سمجھ آتی ہے کہ... اس نفس نے ہمیں کہاں پہنچا دیاا ور ہماری منزل، ہمارا اس دنیا میں آنے کا مقصد، ہمارا مطلوب تو کوئی اور تھا .......یہ ہم اتنی دور کہاں آ گئے.........کتنی تباہی پھیلا ئی اس نفس کی غلامی نے.......... اور تب ہی آنکھیں کھلنے پر یہ احساس بھی بیدار ہو تا ہے کہ ہم نفس کی تابعداری کر نے والے بندے اور نفس کے سامنے ہاتھ باندھے غلام بن چکے ہیں۔ جبکہ ہمیں تو پیدا ہی صرف اللہ کا بندہ بن کر اس کی تابعداری ، حکم برادری اور پیارے آقائے دوجہاں ﷺ کی غلامی کے لیے کیا گیا تھا اور ہم اپنی زندگی کا نصب العین بھلا کر نفس کی غلامی کر تے ہوئے اس کے بے دام غلام بن بیٹھے ۔

    نفس ہمارے دل میں اٹھتے منفی جذبات، خیالات اور احساسات کا دوسرا نام ہے۔ اکثر ہم سو چتے ہیں کہ آج کے دور میں یزید ہو تا تو اسکی یزیدیت سے کیسے ٹکرا جا تے۔ لیکن اگر ہم ذرا سوچ کی گہرائی میں جائیں تو ہم پر کھلے گا کہ یزید یت تو آج بھی ہے۔ اور یہ ایک احساس کا نام ہے جو حق کی راہ سے دور کر تا ہے۔ ہمیں باہر کی یزیدیت سے لڑ نے سے پہلے خود اندر کی یزیدیت سے لڑ کر اسے شکست دینی ہے۔ پھر ہم اس اندر کی جیت پر اپنے اندر حسینیت کی قوتِ ایمانی کی طاقت محسوس کریں گے جو ہمیں باہر کی یزیدیت سے لڑ کر جتینے میں مدد کر ے گی۔ یزید بھی اپنی منوا نا چاہتا تھا ناں.... لیکن امام عالی مقام ؑ حضرت امام حسینؑ نے نہ مان کر اپنا آپ، اپنے پیارے اور اپنا سب کچھ لٹا دیا... اور ہمیشہ کے لیے زندہ و تابندہ ہو گئے... حق امر ہو گیا... اور حسینیت ہمیشہ کے لیے زندہ ہو گئی۔ ایسے ہی ہم نے اپنے اندر اٹھتے نفس کی یزیدی خواہشات کو جو اللہ سے دوری کے لیے ہمیں اکساتی ہیں ، اپنے ہی ہاتھوں شکست دینی ہے۔ تبھی ہمارے اندر حسینیت جھنڈے گاڑ ے گی اور ہم حسینی کہلائیں گے۔ اب یہ ہمارے ہاتھ میں ہے کہ ہم یزیدیت کا ساتھ دیتے ہیں یا اندر باہر سے حسینی نظر آ تے ہیں۔
    Last edited by Admin-2; 02-27-2017 at 08:36 PM.

Similar Threads

  1. Replies: 0
    Last Post: 03-06-2017, 09:58 AM
  2. سوال5:عشق میں تڑپ کیسے بڑھائی جاسکتی ہے؟
    By Admin-2 in forum Ishq Sawalan Ishq Jawaban
    Replies: 0
    Last Post: 03-05-2017, 10:48 PM
  3. Replies: 0
    Last Post: 03-05-2017, 07:05 PM
  4. 42:جب عطا کے سہارے آگے بڑھایا جائے
    By Admin-2 in forum Asrar e Ishq e Haqeeqi
    Replies: 0
    Last Post: 03-05-2017, 05:22 PM
  5. باطل کا دوسرا کھلاڑی شیطان
    By Admin-2 in forum دوسرا کھلاڑی
    Replies: 0
    Last Post: 02-27-2017, 08:17 PM

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •