User Tag List

Results 1 to 1 of 1

Thread: دعا امپرومنٹ ٹپس

  1. #1
    Administrator
    Join Date
    Feb 2017
    Posts
    976
    Thanked: 5
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    دعا امپرومنٹ ٹپس

    دعا امپرومنٹ ٹپس پہلی بار جب کوئی راہی محمدی حسینی سلسلہ کے کسی استاد سے رابطے میں آ نے کے بعد دعا کروانا شروع کرتا ہے تو اصل میں یہی وہ وقت ہے جب ایک استاد نے اپنی ذمہ داری کو بہترین طریقے سے نبھانے کا بھی آغاز کرنا ہوتا ہے۔ جو بھی اللہ کا بندہ اپنے کسی معاملے یا مسئلے کے لیئے دعا کروانا چاہے تو پوری توجہ کے ساتھ اللہ کا احساس آشنائی اور یقین کے احساس اس کے دل میں بیدار کرنے کی کوشش کرنی ہوتی ہے تاکہ وہ اس احساس آشنائی اور اللہ پر یقین کی بنا پر اللہ کے ساتھ اپنا انفرادی رشتہ مضبوط بنانے کی کوشش شروع کر سکے اور اسے اپنے ہر مسئلے اور معاملے کے لیے اللہ کے سامنے دعا میں پیش ہونا ناگزیر لگے ۔ راہی کے دل میں دعا کی اہمیت کا احساس اجاگر کرنا بے حد ضروری ہے۔ اس کے لیے استاد کو چند ٹپس دی جارہی ہیں۔ان ٹپس کو دوران کورس ہی استاد نا صرف زبانی طور پر بیان کر کے راہی کو سمجھائے بلکہ یہ ٹپس ایک ایک کر کے یا جیسے مناسب سمجھے ضرورت کے مطابق راہی کو ٹیکسٹ کی شکل میں بھی بھیجے۔ یہ ٹپس دعا میں اللہ کے ساتھ دل کا بہترین ٹانکا لگانے، دل کا رابطہ دعامیں اللہ کے ساتھ نا بناسکنے کی وجوہات کو سمجھنے اور دعا میں رکاوٹوں کو دور کر کے بہترین طریقے سے دعا میں اللہ کے سامنے پیش ہونے میں مددگار ثابت ہوں گی۔ 1:دعا کے لیئے دل کی حالت کا بہتر ہونا دعا کے لیئے دعا سے پہلے دل کی حالت کو بہتر بنانا اوریہ احساس دل میں رکھنا ضروری ہے کہ ہم نے اللہ کی بارگا ہ میںپیش ہونا ہے۔ جتنی خاص جگہ حاضر ہونا ہوتا ہے اتنے ہی شوق سے ہم وہاں جانے کی تیاری بھی کرتے ہیں۔ کائنات کے مالک کے سامنے پیش ہونے کا احساس دل میں بیدار ہوگا تو اسی سے اندازہ ہو جائے گا کہ دعا کے لیئے دل کا جذ بہ کیسا ہے اور دل کی حالت کیاہے۔ 2:دعا میں ٹانکا لگانے کے لیئے دل کی کال کا کنیکٹ ہونا ً دعا شروع ہو تو دل کا ٹانکا اللہ سے لگانا یعنی کنیکٹ ہونا اہم ہوتا ہے۔ جیسے کہیں کال ملائی جاتی ہے تو ہم اپنا دھیان لگا کے کال کی بیل سنتے ہیں کہ جا رہی ہے۔ ایسے ہی دل سے پکار اٹھتی ہے اور دل سچائی سے اپنے سننے والے (سمیع) اللہ کو صدا دیتا ہے... اللہ ..میرے اللہ... اللہ...میرے اللہ...جب یہ صدائیں دل سے اٹھی ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ ہاں اب اللہ نے سنا اور وہ متوجہ ہوا۔جب یو ں یقین ہو کہ میں نے پکارا اور میرے اللہ نے سناتو تب دعا شروع کی جائے۔ جب تک یہ احساس دل میں بیدار نہ ہو کہ میں نے پکارا اور اللہ نے متوجہ ہو کر سنا تب تک اللہ کو پکارتے رہیں یہاں تک کہ یقین دل میں اترے کہ اب اللہ سے دل کا ٹانکا جڑ گیا ہے یعنی کال کنیکٹ ہو گئی ہے۔ : 3دعا میں دنیاوی سوچوں سے نکل کر دل سے ٹانکا لگانا دعا جب شروع کرنے لگیں تو عموماََایسے نہیں ہوتا کہ ہمارا ٹانکا فوراََ اللہ سے لگ جائے۔ ہمیں اللہ سے ٹانکا جوڑنے کی کوشش کرنی ہوتی ہے۔ اس کے لیئے دنیا کی الجھنوں سے ،سوچوں سے خود کو نکالنا ہوتا ہے۔ جیسے ہم نماز میں اپنے اللہ کے سامنے حاضر ہوتے ہیں اور اللہ اکبر کی صدا دل سے اٹھتی ہے کہ وہ سب سے بڑا،اعلیٰ اور شان والا ہے ۔ ایسی ہی صدا دعا میں بھی دل سے احساس کی صورت اٹھنی چاہیئے کہ ہر طرح کے دنیاوی خیال اور اس کے جھمیلے پیچھے رہ جائیں اور یہ کچھ لمحے ایسے ہوں کہ جن میں یہ احساس ہو کہ اس وقت بس میںہوں اور میرا اللہ ہے۔ اور میں اللہ سے اپنے دل کی بات کر نے کے لیئے اس کے سامنے پیش ہوں۔ :4دعا میں اللہ کو اس کی صفات کا واسطہ دینا جب ہمارا دل کا رابطہ اللہ سے بن جاتا ہے تو ہم اس کی صفات کا واسطہ دیتے ہوئے اس کو پکارتے ہیں۔ اپنے دل کی بات بیان کرتے ہیں۔ ہمارے دل میں اللہ کی صفات پر یقین کا لیول جتنا بہترین ہوتا ہے اتنا ہی ہمیں اللہ کے سامنے پیش ہونے کا احساس ہوتا ہے اور ہم بہترین طرح سے دعا کر سکتے ہیں۔اس لیئے دعا میں اللہ کو اس کی صفات کا واسطہ ضرور دیں۔ ہم جو بھی دعا کر رہے ہیں ، اسی کے مطابق صفا ت کا واسطہ اللہ کو دیں۔ اگر معافی و توبہ کی دعا ہے تو اللہ کو اس کی تواب الرحیمی ، غفور الرحیمی کا واسطہ دیں۔اگر مشکل میں آسانی یا حاجت کی دعا ہو تو مشکل کشائی اور حاجت روائی کی صفت کا واسطہ دیں۔اسی طرح سے اگر مدد مانگ رہے ہوں تو اس کی مدد کرنے کی صفت کے واسطے سے مانگیں۔ 5 :یقین کی مضبوطی: اللہ پر یقین کی مضبوطی دعاکو بہترین احساس کے ساتھ اللہ کے سامنے جھک کر پیش کرنے میں سب سے بڑھ کر معاون ثابت ہوتی ہے۔ جب ہمیں یقین ہوتا ہے کہ ہم اللہ کی بارگاہ میں پیش ہیں اور اس کی نظر میں ہیں اور ہماری کہی ان کہی، زبان سے مانگی، دل سے کی سب دعائیں اللہ تک پہنچ رہی ہیں اور ان میں سے کوئی بھی رد نہیں ہوگی تو ہم شوق اور جذبے سے دعا میں پیش ہوتے ہیں ۔اور ایسے دعا کرنے کے بعد دل میں سکون کی کیفیت ہوتی ہے۔ نوٹ: یہ استاد کی سمجھ اور فہم پر منحصرہے کہ وہ دعامیں پیش آنے والی رکاوٹوں کے پوائنٹس اور دعا امپرومنٹ ٹپس کس انداز میں راہی کو پہنچائے اور سمجھائے۔مندرجہ ذیل سوالات راہی سے کیئے جائیں گے۔ سوالات: سوال نمبر1:دعا میں پیش ہونے کے لیئے دل کی حالت کو کیسے بہتر بنایا جا سکتا ہے؟ سوال نمبر2:دعا میں دنیاو ی سوچوں سے رہائی پانا اور اللہ کے ساتھ دل کا مضبوط رابطہ بناناکیسے ممکن ہے؟ سوال نمبر3:دعا میں اللہ کے سامنے پیش ہونے کا بہترین احساس کب عطا ہوتا ہے؟ سوال نمبر4:دعا امپرومنٹ ٹپس پڑھ کر سمجھ لینے کے بعد آپ نے اپنی دعا میں کیا بہتری محسوس کی؟سوال نمبر 5: اللہ پر یقین کی مضبوطی دعا میں پیش ہونے کے لیئے کیوں ضروری ہے؟
    Last edited by Admin-2; 02-05-2019 at 03:26 PM.

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •