User Tag List

Results 1 to 1 of 1

Thread: شبِ قدر

  1. #1
    Administrator
    Join Date
    Feb 2017
    Posts
    979
    Thanked: 5
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    شبِ قدر


    🌹شبِ قدر:

    شبِ قدر کے معنی عزت وعظمت اور شرافت کے ہیں۔

    💫بقول ابوبکر وَراق
    اس رات میں جو کتاب (قرآن لوح محفوظ سے آسمانِ دنیا پر) اتاری گئی وہ بھی قابلِ قدر ہے اور جس پیغمبر پر اتاری گئی وہ بھی قابلِ قدر ہے اور جس امت پر اتاری وہ بھی امتوں میں سب سے بہتر امت ہے تو ان قابلِ قدر چیزوں کی وجہ سے اس کو شبِ قدر کہتے ہیں، جس کے معنی ہوئے عظمت والی رات۔
    (القرطبی)

    ماہِ رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں اس رات کی عبادت کرنے کی بہت فضیلت اور تاکید آئی ہے۔ قرآن مجید میں اس رات کی عبادت کو ہزار مہینوں سے بہتر قرار دیا گیا ہے۔ اس حساب سے اس رات کی عبادت 83 سال اور 4 مہینے بنتی ہے۔

    💥شب قدر ملنے کی وجہ:
    امام مالکؓ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب پہلی امتوں کے لوگوں کی عمروں پر توجہ فرمائی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنی امّت کے لوگوں کی عمریں کم معلوم ہوئیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ خیال فرمایا کہ جب گزشتہ لوگوں کے مقابلے میں ان کی عمریں کم ہیں تو ان کی نیکیاں بھی کم رہیں گی۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے آپ کو شبِ قدر عطا فرمائی جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے
    (موطا امام مالک)

    حضرت مجاہدؒ فرماتے ہیں کہ حضور کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بنی اسرائیل کے ایک نیک شخص کا ذکر فرمایا جس نے ایک ہزار ماہ تک راہِ خدا کے لئے ہتھیار اٹھائے رکھے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو اس پر تعجب ہوا تو اللہ تعالیٰ نے یہ سورة نازل فرمائی اور ایک رات یعنی شب قدر کی عبادت کو اس مجاہد کی ہزار مہینوں کی عبادت سے بہتر قرار دیا۔
    (سنن الکبریٰ، بیہقی ،تفسیر ابن جریر)

    💥شبِ قدر کی فضیلت:

    شبِ قدر، قدر و منزلت والی رات ہے۔ اس رات کی بے شمار برکات ہیں۔ قرآن و حدیث میں اس رات کے بے شمار فضائل و برکات موجود ہیں۔ شب قدر کی ایک بہت بڑی فضیلت یہ ہے کہ اس کے متعلق قرآن کریم میں مکمل سورة نازل ہوئی ہے۔

    🌸 قرآن کی روشنی میں:

    🍃1 اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے کلام پاک میں فرماتا ہے:

    بے شک ہم نے اسے (قرآن کو) شبِ قدر میں اتارا اور تم نے کیا جانا کیا ہے شبِ قدر، شبِ قدر ہزار مہینوں سے بہتر (ہے) اس میں فرشتے اور جبرائیل اترتے ہیں اپنے رب کے حکم سے ہر کام کے لئے۔ وہ سلامتی ہے صبح چمکنے تک۔
    (سورةالقدر)

    🍃2۔ بلاشبہ ہم نے اس (کتابِ حکیم) کو ایک بڑی ہی بابرکت رات (شب قدر) میں ہی اتارا ہے کہ ہمیں بہرحال خبردار کرنا ہے۔ جس میں فیصلہ کیا جاتا ہے ہر حکمت والے کام کا۔
    (سورہ الدخان:3,4)


    🌸 حدیث کی روشنی میں:

    🍃1 حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے لیلة القدر میں ایمان و احتساب کے ساتھ قیام فرمایا اس کے گزشتہ گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں۔
    (بخاری شریف)

    🍃2 حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ:آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب آخری دس دنوں میں داخل ہوتے تو (عبادت کے لئے) کمر کس لیتے۔ خود بھی شب بیداری کرتے اور گھر والوں کو بھی جگاتے تھے۔
    (بخاری شریف)

    🍃3 حضرت عائشہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
    شب قدر کو رمضان کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں تلاش کرو۔
    (بخاری)

    🍃4 حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
    جب شب قدر ہوتی ہے، جبرائیلِ امین علیہ السلام ملائکہ کی جماعت میں اترتے ہیں اور ہر قیام و قعود کرنے والے بندے پر جو خدا تعالیٰ کے ذکر و عبادت میں مشغول ہو (اس کے لئے) دعا کرتے ہیں۔
    (بیہقی)

    🍃5 حضرت انس بن مالکؓ نے فرمایا کہ جب رمضان کا مہینہ شروع ہوا تو حضورِ اقدس نورِ مجسم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
    یہ مہینہ تم میں آیا ہے اور اس میں ایک رات ایسی آئی ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے تو جو شخص اس کی برکتوں سے محروم رہا وہ تمام بھلائیوں سے محروم رہا۔ اور محروم نہیں رکھا جاتا اس کی بھلائیوں سے مگر وہ جو بالکل بے نصیب ہو۔
    (ابنِ ماجہ)

    💥شبِ قدر کو پوشیدہ رکھنے میں حکمتیں:

    لوگ اکثر یہ سوال پوچھتے ہیں کہ شبِ قدر کو پوشیدہ رکھنے میں کیا حکمتیں ہیں؟؟؟

    جواب یہ ہے کہ اصل حکمتیں تو اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں۔ یہ وہ جواب ہے جو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین بارگاہِ نبوی میں اس وقت دیا کرتے جب انہیں کسی سوال کے جواب کا قطعی علم نہ ہوتا۔ وہ فرماتے اللہ و رسولہ اعلم
    (بخاری، مسلم، مشکوٰة، کتاب الایمان)

    حضور کے روحانی فیوض و برکات سے اکتسابِ فیض کرتے ہوئے علمائے اکرام نے شبِ قدر کے پوشیدہ ہونے کی بعض حکمتیں بیان فرمائی ہیں جو درج ذیل ہیں۔

    ✨1 اگر شبِ قدر کو ظاہر کر دیا جاتا تو کوتاہ ہمت لوگ اسی رات کی عبادت پر اکتفا کر لیتے اور دیگر راتوں میں عبادات کا اہتمام نہ کرتے اب لوگ آخری عشرے کی پانچ راتوں میں عبادت کی سعادت حاصل کرلیتے ہیں۔

    ✨2 شبِ قدر ظاہر کر دینے کی صورت میں اگر کسی سے یہ شب چھوٹ جاتی تو اسے بہت زیادہ حزن و ملال ہوتا اور دیگر راتوں میں وہ دلجمعی سے عبادت نہ کر پاتا۔ اب رمضان کی پانچ طاق راتوں میں سے دو تین راتیں اکثر لوگوں کو نصیب ہو ہی جاتی ہیں۔

    ✨3اگر شبِ قدر کو ظاہر کر دیا جاتا تو جس طرح اس رات میں عبادت کا ثواب ہزار ماہ کی عبادت سے زیادہ ہے، اسی طرح اس رات میں گناہ بھی ہزار درجہ زیادہ ہوتا۔ لہذا اللہ تعالیٰ نے اس رات کو پوشیدہ رکھا تاکہ اس شب میں جو عبادت کریں وہ ہزار ماہ کی عبادت سے زیادہ اجروثواب پائیں اور جو اپنی جہالت و کم نصیبی سے اس شب میں بھی گناہ سے باز نہ آئیں تو انہیں شب قدر کی توہین کرنے کا گناہ نہ ہو۔

    ✨4 جیسا کہ نزولِ ملائکہ کی حکمتوں میں ذکر کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ فرشتوں کو اپنے بندوں کی عظمت بتانے کے لئے زمین پر نازل فرماتا ہے اور اپنے عبادت گزار بندوں پر فخر کرتا ہے۔

    شب قدر ظاہر نہ کرنے کی صورت میں فکر کرنے کا زیادہ موقع ہے کہ:
    اے ملائکہ دیکھو! میرے بندے معلوم نہ ہونے کے باوجود محض احتمال کی بناء پر عبادت و اطاعت میں اتنی محنت و سعی کر رہے ہیں۔ اگر انہیں بتا دیا جاتا کہ یہی شبِ قدر ہے تو ان کی عبادت و نیازمندی کا کیا حال ہوتا۔

    ✨5 شبِ قدر کا پوشیدہ رکھنا اسی طرح سمجھ لیجیئے جیسے موت کا وقت نہ بتانا۔ کیونکہ اگر موت کا وقت بتا دیا جاتا تو لوگ ساری عمر نفسانی خواہشات کی پیروی میں گناہ کرتے اور موت سے عین پہلے توبہ کر لیتے۔ اس لیئے موت کا وقت پوشیدہ رکھا گیا تاکہ انسان ہر لمحہ موت کا خوف کرے اور ہر وقت گناہوں سے دور اور نیکی میں مصروف رہے۔ اسی طرح آخری عشرے کی ہر طاق رات میں بندوں کو یہی سوچ کر عبادت کرنی چاہئیے کہ شاید یہی شبِ قدر ہو۔ اسی طرح شبِ قدر کی جستجو میں برکت والی پانچ راتیں عبادت الٰہی میں گزارنے کی سعادت نصیب ہوتی ہے۔
    Last edited by Admin-2; 1 Week Ago at 03:06 PM.

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •