User Tag List

Results 1 to 1 of 1

Thread: چھینک اور جمائی کے آداب

  1. #1
    Administrator
    Join Date
    Feb 2017
    Posts
    976
    Thanked: 5
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    چھینک اور جمائی کے آداب


    💚چھینک اور جمائی کے آداب💚

    1۔ جب چھینک آئے تو الحمدللهِ رَبّ العالمين کہنا چاہیے۔

    2۔ پیارے آقائے دو عالمﷺ نے فرمایا:-
    بےشک اللہ چھینک کو پسند فرماتا ہے اور جمائی کو ناپسند فرماتا ہے۔ جب تم میں سے کسی کو چھینک آئے اور وہ الْحَمدُللہ کہے تو ہر سننے والے مسلمان پر حق ہے کہ اس کے جواب میں يَرحَمُكَ اللہ کہے۔
    اگر جمائی آئے تو یہ شیطان کی طرف سے ہے جب تم میں سے کسی کو جمائی آئے تو جہاں تک ہو سکے اسے روکے۔ کیونکہ جب تم میں سے کسی کو جمائی آتی ہے تو شیطان اسے دیکھ کر ہنستا ہے۔ (بخاری)

    3۔ چھینک کا جواب دینا واجب ہے جب کہ چھینکنے والا الْحَمدُللہ کہے ۔
    جواب فوراً دیں اور اتنی آواز سے دیں کہ چھینکنے والا سن لے۔
    جواب صرف ایک مرتبہ واجب ہے۔

    4۔ اگر کسی کو کچھ فاصلے پر یا دوسرے کمرے میں جہاں بیچ میں دیوار حائل ہو چھینک آئے اور وہ الْحَمدُللہ کہے اور آپ سن لیں تو اس کے جواب میں يَرحَمُكَ اللہ کہیں۔

    5۔ پیارے آقائے دو عالمﷺ نے فرمایا کہ
    جب تم میں سے کسی کو چھینک آئے تو الحَمدُللہ کہے اور اسکا بھائی یا ساتھی اسے يَرحَمُكَ اللہ کہے۔
    جب وہ اسے سنے تو چھینکنے والا کہے يَهْدِيكُمُ اللَّهُ وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ ۔ (بخاری)

    6۔ جو شخص بلند آواز سے چھینکنے کے وقت الْحَمدُللہ نہ کہے تو اس کا جواب نہ دیں کیونکہ اس نے اللہ کی حمد نہیں کی اس لئے جواب ضروری نہیں۔

    7۔ پیارے آقائے دو عالمﷺ کو جب چھینک آتی تو اپنے چہرے کو ہاتھ یا کپڑے سے چھپا لیتے اور آواز کو پست رکھنے کی کوشش کرتے اور ساتھ ہی اللہ کی حمد بیان فرماتے۔

    8۔ حضرت ابو ہریرہؓ نے فرمایا اپنے بھائی کو تین بار چھینکنے پر جواب دو اگر(چھینکنا) اس سے بڑھے تو وہ زکام ہے۔ (ابو داؤد)

    9۔ اگر غیر مسلم کو چھینک آئے اور وہ الحَمدُللہ کہے تو اس کے جواب میں يَرْحَمُكَ اللہ نہ کہیں بلکہ یہ کہیں اللہ تجھے ہدایت دے۔

    10۔ حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ پیارے آقائے دو عالمﷺ نے فرمایا کہ جب کوئی بات کی جائے اور چھینک آجائے تو وہ حق ہے۔

    11۔ حضرت واصلہؓ سے روایت ہے کہ پیارے آقائے دو عالمﷺ نے فرمایا
    جب کسی کو ڈکار یا چھینک آئے تو آواز بلند نہ کرے کہ شیطان کو یہ بات پسند ہے کہ آواز بلند کی جائے۔
    (شعب الایمان)

    12۔ چھینکنے والا دیوار کے پیچھے ہو تب بھی جواب دیں۔

    13۔ خطبہ کے وقت کسی کو چھینک آئے تو اس کا جواب نہ دیں۔

    14۔ اگر کسی محفل میں موجود ہوں تو کچھ لوگوں نے جواب دے دیا تو سب کی طرف سے جواب ہو گیا مگر بہتر یہی ہے کہ سارے جواب دیں ۔

    15۔ اگرکسی شخص کو نماز میں چھینک آگئی اور اس نے بے اختیار الحمدللہ کہہ دیا تو نماز فاسد نہیں ہوگی۔
    جو نمازی کسی اور چھینکنے والے کے جواب میں یرحمک اللہ کہے، اس کی نماز فاسد ہوجائے گی۔ (ھدایہ)

    16۔ چھینک اور جمائی کا اخلاقی ادب یہ ہے کہ جب چھینک یا جمائی آئے تو لوگوں کے سامنے نہ منہ کھولے اور نہ زیادہ آواز کرے بلکہ منہ پر ہاتھ رکھے اور آواز کو پَست کرے تاکہ پاس بیٹھنے والے چھینک یا جمائی سے طبیعت پر برا اثر نہ لیں۔
    ایک بزرگ کا قول ہے کہ چھینک کے وقت سر جھکا لو اور منہ چھپا لو اور آواز کو پست کر لو یہی اللہ کو پسند ہے۔

    جمائی کو روکنے کا طریقہ

    17۔ حضرت ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے کہ پیارے آقائے دو عالمﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کسی کو جمائی آئے تو منہ پر ہاتھ رکھ کر اسے روکے کیونکہ شیطان اندر داخل ہو جاتا ہے۔

    18۔ جمائی شیطان کی طرف سے ہے۔
    جب بندہ جمائی میں منہ کھولتا ہے شیطان منہ کے اندر گھس جاتا ہے۔
    جب بندا ہاہاہا اور قہقہہ کی آواز نکالتا ہے تو شیطان قہقے مار کے ہنستا ہے۔
    جمائی کو روکنا چاہیے۔ جب جمائی آنے لگے تو اوپر کے دانتوں سے نچلے ہونٹ کو دبائیں یا الٹے ہاتھ کی پشت منہ پر رکھ دیں۔

    19۔ اگر نماز میں قیام کی حالت میں جمائی آئے تو سیدھے ہاتھ کی پشت منہ پر رکھیں اور باقی ارکان میں الٹے ہاتھ کی پشت۔

    20۔ جمائی روکنے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ جب کبھی جمائی آنا شروع ہو تو فوراً دل میں خیال کریں کہ انبیاء کو جمائی کبھی نہیں آتی تھی یا یہ ہی تصور کر لیں کہ پیارے آقائے دو عالمﷺ کو کبھی جمائی نہیں آئی کیونکہ جمائی شیطان کی طرف سے ہوتی ہے اور انبیاء شیطان کے اثر سے محفوظ ہیں۔
    انشاءلله جمائی فوراً رک جائے گی ۔


    Last edited by Admin-2; 04-01-2019 at 04:16 PM.

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •