User Tag List

Results 1 to 1 of 1

Thread: امانت کی قسمیں

  1. #1
    Administrator
    Join Date
    Feb 2017
    Posts
    1,316
    Thanked: 5
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    امانت کی قسمیں




    🌹 امانت کی قسمیں:


    امانت کی بہت ساری قسمیں ہیں، جن میں سے چند یہ ہیں:


    💥1. عبادت میں امانت:

    عبادت میں امانت یہ ہے کہ انسان دین کے تمام فرائض کو کما حقہ
    ادا کرے، نماز، روزہ، والدین کی فرمانبرداری اور دیگر وہ فرائض اور
    واجبات جو ہم پر ضروری ہیں، اللہ کی امانت سمجھ کر انہیں سر انجام دے۔


    💥2. اعضاء وجوارح کی حفاظت کرنا امانت ہے:

    مسلمان پر ضروری ہے کہ اس کے سارے اعضاء اس کے پاس امانت
    ہیں، لہٰذا ان کی حفاظت ضروری ہے، اپنے اعضاء کو ان چیزوں
    میں استعمال نہ کرے جس سے اللہ ناراض ہوتا ہو، آنکھ امانت ہے، ضروری ہے کہ اسے ناجائز چیزوں پر ڈالنے سے بچائے، کان امانت ہے، ضروری ہے کہ حرام سننے سے اس کی حفاظت کرے، ہاتھ امانت ہے، پیر امانت ہے اور اسی طرح دیگر تمام اعضاء امانت ہیں۔



    💥3. رقم اور چیزوں میں امانت:

    رقومات اور چیزوں کی حفاظت کرنا اور انہیں ان کے مالکوں تک، جب وہ طلب کریں اپنی اصل حالت میں پہنچانا بھی امانت میں شامل ہے، جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مشرکین کے
    ساتھ کیا، مشرکین اپنی اشیاء آپ کے پاس بطور امانت رکھا کرتے
    تھے۔
    یہی وجہ ہے کہ آپ صلى الله عليه وآلہ وسلم اہلِ مکہ کے درمیان صدق و امانت
    میں مشہور تھے، اہلِ مکہ آپ کو صادق و امین کے لقب سے
    پکارتے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مکہ سے مدینہ ہجرت فرمائی، تو حضرت علی بن ابی طالب کو مشرکین کے سامان اور امانتوں کا ذمہ دار بنایا۔


    💥4. کام میں امانت:

    یہ امانت میں شامل ہے کہ انسان اپنی ذمہ داری کو بخوبی انجام
    دے، لہٰذا ایک مزدور کو اپنا کام بحسن و خوبی اور امانت سمجھ کر انجام دینا چاہیے، طالب علم کو اپنے فرائض بخوبی سرانجام دینے چاہِیں، علم کی تحصیل میں محنت کرنی چاہیے، اور اپنے والدین کے
    بوجھ کو ہلکا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔



    💥5. بات چیت اور کلام میں امانت:

    یہ امانت میں شامل ہے کہ مسلمان اچھی بات کرے، زبان سے نکلنے والے الفاظ کی اہمیت اور قدر کو جانے، چونکہ ایک ہی کلمہ بسا اوقات انسان کو جنت میں داخل کر دیتا ہے اور اس کے بدولت وہ متقین میں شامل ہو جاتا ہے، جیسا کہ
    💫ارشاد باری تعالیٰ ہے:
    کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے کلمہ طیبہ کی کیسی مثال بیان فرمائی ہے وہ ایسی ہے جیسے پاکیزہ درخت جس کی جڑ مضبوط
    ہو اور شاخیں آسمان میں پھیلی ہوں۔
    (سورہ إبراهيم: 24)

    اسی طرح کبھی انسان زبان سے ایسا کفریہ کلمہ ادا کر دیتا ہے
    جس کے باعث وہ جہنم کا مستحق ہو جاتا ہے، اللہ تعالیٰ نے ایسے کلمے کو ناپاک درخت سے تشبیہہ دی ہے،
    💫ارشاد فرمایا:
    اور ناپاک بات یعنی غلط عقیدے کی مثال ناپاک درخت کی سی ہے
    کہ وہ زمین کے اوپر ہی سے اکھیڑ کر پھینک دیا جائے، اس کو ذرا
    بھی قرار وثبات نہیں۔
    (سورة إبراهيم: 26)


    💥6. ذمہ داری امانت ہے:

    ہر ذمہ دار انسان کسی نہ کسی چیز کا ذمہ دار ہے، لہٰذا وہ چیز
    اس کے گلے میں امانت ہے، چاہے وہ حاکم ہو یا محکوم، والد ہو
    یا بیٹا یا پھر وہ مرد ہو یا عورت، ہر ایک ذمہ دار ہے اور ہر ایک
    سے اس کے ماتحتوں کے بارے میں پوچھا جائے گا۔

    💫ارشاد نبوی صلی
    اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے:
    سنو! تم میں سے ہر ایک ذمہ دار ہے، اور تم میں سے ہر شخص
    سے اس کے ماتحتوں سے متعلق پوچھا جائے گا، لوگوں کا امیر ذمہ دار ہے اور اس سے اس کے ماتحتوں سے متعلق پوچھا جائے گا، مرد
    اپنے گھر والوں کا ذمہ دار ہے اور اس سے ان کے متعلق پوچھا جائے
    گا، عورت اپنے شوہر کے گھر اور اس کے اولاد کی ذمہ دار ہے، اور
    اس سے ان سے متعلق پوچھا جائے گا، غلام اپنے آقا کے مال کا ذمہ دار
    ہے اور اس سے اس کے متعلق پوچھا جائے گا، سنو! تم میں سے ہر
    ایک ذمہ دار ہے اور ہر ایک سے ماتحتوں سے متعلق پوچھ ہو گی۔
    (متفق عليه)



    💥7. راز کی حفاظت کرنا امانت ہے:

    مسلمان اپنے بھائی کے رازوں کی حفاظت کرتا ہے، اس میں
    خیانت نہیں کرتا اور اس کے رازوں کو افشاء نہیں کرتا۔
    نبی کریم
    صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
    بات کرے پھر (بات کے دوران) اپنے آس پاس دیکھے (کہ آدمی
    کوئی سن نہ سکے)، تو اس کی بات امانت ہے۔

    💥8.خرید و فروخت میں امانت:

    مسلمان کسی کو دھوکہ نہیں دیتا، نہ دھوکہ کھاتا ہے اور نہ خیانت
    کرتا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک آدمی کے پاس سے گزرے، جو غلہ بیچ رہا تھا، آپ نے اپنا ہاتھ غلہ کے ڈھیر میں ڈالا، تو آپ
    نے اسے گیلا پایا۔
    آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
    یہ کیا ہے، اے غلہ والے؟؟؟
    اس آدمی نے
    کہا:
    اے اللہ کے رسول بارش ہوئی، اس لیے،
    تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
    تم نے
    اسے اوپر کیوں نہیں کیا کہ لوگ دیکھ لیں؟ جس نے دھوکہ دیا وہ ہم سے نہیں۔
    (مسلم)



    Last edited by Admin-2; 1 Week Ago at 01:10 PM.

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •