بچپن میں ہماری مسجد میں ایک مولوی صاحب آئے، اس دور میں ، میں بھی یہ سمجھتا تھا کہ عشق لفظ بیہودہ ہے۔ وجہ اس کی یہ تھی کہ کبھی کوئی یہ نہیں کہتا کہ میں اپنی بہن کا عاشق ہوں اپنی ماں کا عاشق ہوں۔۔ یہی چیز مجھے کھٹکتی تھی کہ اتنا ہی اچھا لفظ ہے تو ماں کے ساتھ شدت کی محبت کے باوجود یہ لفظ ہم کیوں نہیں کرتے استعمال۔۔اس لیے آقا علیہ السلام کے لیے بھی یہ کہنا کہ میں حضور کا عاشق ہوں غلط ہے۔ اب بہن ماں کے لیے کیوں یہ لفظ اردو میں استعمال نہیں ہوتا اس کا جواب اردو کے محققین ہی دے سکتے ہیں۔۔
باقی عشق عربی کا لفظ ہے لیکن قرآن میں اس کا ذکر نہیں ہے نہ ہی آج کل کے عرب لوگ اس کا ذکر کرتے ہیں زیادہ۔۔۔وہ حب لفظ استعمال کرتے ہیں۔۔باقی عشق لفظ کا مطلب انتہا درجے کی محبت ہے جس کے بعد عاشق کا اپنا وجود معدوم ہو جاتا ہے اور معشوق ہی معشوق کے جلوے باقی رہ جاتے ہیں۔۔۔




Reply With Quote